BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 November, 2008, 13:47 GMT 18:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ٹھوس شواہد پر سخت کارروائی‘

زرداری
آئی ایس آئی ڈی جی کا بھارت جانے کا اعلان ایک غلط فہمی: صدر
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر ممبئی حملوں میں پاکستان کی کسی تنظیم یا فرد کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو پاکستان سخت کارروائی کرے گا۔

انہوں نے یہ بات سنیچر کے روز بھارتی ٹیلی ویژن چینل سی این این آئی بی این کو انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ ’صدر پاکستان کی حیثیت سے اگر پاکستان میں موجود کسی تنظیم اور فرد کے حوالے سے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو میں پوری دنیا کے سامنے بہت سخت کارروائی کروں گا۔‘

کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو نہ بھیجنے کے بارے میں صدر پاکستان نے کہا کہ یہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ’یہ سب ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہوا۔ ہم نے اعلان کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے ایک ڈائریکٹر بھارت جائیں گے اور اسی کی درخواست بھارتی وزیر اعظم نے کی تھی اور اسی پر اتفاق ہوا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا بھارت جانا قبل از وقت ہے۔ ابھی شواہد آنے دیں اور تحقیقات ہونے دیں اور اس کے بعد شاید ڈائریکٹر جنرل کی سطح کا اجلاس ہو سکتا ہے۔‘

صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ ڈی جی بہت اہم عہدہ ہوتا ہے اور وہ ابتدائی تحقیقات میں ملوث نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے منموہن سنگھ کو ممبئی حملوں میں ملوث مجرموں اور ان کے سرغنہ کو بے نقاب اور گرفتار کرنے میں مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ کو جلد بھارت روانہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

ممبئی حملوں میں پاکستان میں موجود عناصر کے حوالے سے صدرِ پاکستان نے کہا ’یہ ایک عالمی سانحہ ہے۔ آج کل ہر دہشت گردی کا واقعہ عالمی سانحہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں مختلف شہریت کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ عالمی انٹیلیجینس ایجنسیوں کو بلایا جائے گا۔‘

جلد بازی سے نہیں
 سماج دشمن عناصر ایسے اقدامات کر کے رد عمل چاہتے ہیں لیکن اس پر شدید رد عمل نہیں کرنا چاہیے۔ بھارتی عوام اور حکومت جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔
صدر زرداری

ا نہوں نے سماج دشمن عناصر کے بارے میں کہا کہ وہ ایسے اقدامات کر کے رد عمل چاہتے ہیں لیکن اس پر شدید رد عمل نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی عوام اور حکومت پر زور دیا کہ وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔

داؤد ابراہیم اور لشکر طیبہ کے حافظ محمد سعید تک رسائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور قانون کے تحت ہی کام کیا جائے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جہادی کیمپس کی موجودگی کے حوالے سے بھارت کے مؤقف کے سوال پر صدر زرداری نے کہا کہ اگر اس معاملے میں شواہد پیش کیے جاتے ہیں تو ضرور ان کو بند کیا جائے گا اور جو یہ کیمپ چلا رہے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔

سکیورٹی ایجنسی بریفنگ
پاکستان کی ایک سیکورٹی ایجنسی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ابتدائی ثبوت پاکستان کو پیش کر دیے ہیں۔

ان کے مطابق ممبئی حملوں میں پاکستانی حکومت یا کوئی بھی ادارہ ملوث نہیں ہے اور بھارت سے موصول ہونے والے پیغام میں مثبت زبان استعمال کی گئی۔

سنیچر کی شام کو صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔

 اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔
سکیورٹی ایجنسی

جب اعلیٰ سکیورٹی اہلکار سے پوچھا کہ ایسی صورت میں افغان سرحد کا کیا بنے گا تو انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تناؤ کی صورت میں اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو قبائلی خود سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ بیت اللہ محسود ہوں یا بلوچستان کے قوم پرست رہنما وہ سب محب وطن ہیں اور پاکستان کے خلاف نہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ تحریک طالبان والے جو سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کر کے گلے کاٹ رہے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کریں گے تو وہ اس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔

غیر رسمی بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ پہلی بار بھارت نے اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان کی حکومت یا کسی ادارے پر تاحال نہیں لگایا اور جو شواہد پیش کرتے ہوئے تعاون کے لیے پیغام بھیجا ہے، اس کی زبان بھی مثبت ہے تو پھر ان کی درخواست پر آئی ایس آئی کے سربراہ کو دلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیوں تبدیل کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی کے سربراہ کے جانے سے صورتحال بہتر ہوتی نظر آئی تو یہ بھی کیا جائے گا۔

ایک اور اہلکار نے کہا کہ پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا۔

ان کے مطابق دونوں ممالک میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار ہے اور اس کے مطابق ان سے تعاون ہوگا۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھارت نہیں جائئیں گے، تاہم ان کے مطابق اس ادارے کے ایک نمائندے دلی جائیں گے لیکن اس بارے میں ابھی وقت طے نہیں ہوا اور ایسا شاید بہت جلد نہ ہوسکے۔

کولابہ کے مکین
’رات جیسے تیسے گزاری، پھر بھاگ گئے‘
میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
نکھل سہگلنکھل سہگل کا دکھ
گنبد پر نگاہیں ٹکائے خبر کے انتظار میں
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)’موت کا بلاوا تھا‘
اخلاق اسی روز نوکری ڈھونڈتے ممبئی آیا تھا
تاج ہوٹلتاج ہوٹل ایکشن
ممبئی حملے: کارروائی کا آخری روز
تاج کے کبوتر۔۔۔
تاج ہوٹل پر کارروائی میں کبوتروں پر کیا بیتی؟
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
اسی بارے میں
پاکستان ملوث نہیں: گیلانی
28 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد