’ٹھوس شواہد پر سخت کارروائی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر ممبئی حملوں میں پاکستان کی کسی تنظیم یا فرد کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو پاکستان سخت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے یہ بات سنیچر کے روز بھارتی ٹیلی ویژن چینل سی این این آئی بی این کو انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ’صدر پاکستان کی حیثیت سے اگر پاکستان میں موجود کسی تنظیم اور فرد کے حوالے سے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو میں پوری دنیا کے سامنے بہت سخت کارروائی کروں گا۔‘ کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو نہ بھیجنے کے بارے میں صدر پاکستان نے کہا کہ یہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ’یہ سب ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہوا۔ ہم نے اعلان کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے ایک ڈائریکٹر بھارت جائیں گے اور اسی کی درخواست بھارتی وزیر اعظم نے کی تھی اور اسی پر اتفاق ہوا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا بھارت جانا قبل از وقت ہے۔ ابھی شواہد آنے دیں اور تحقیقات ہونے دیں اور اس کے بعد شاید ڈائریکٹر جنرل کی سطح کا اجلاس ہو سکتا ہے۔‘ صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ ڈی جی بہت اہم عہدہ ہوتا ہے اور وہ ابتدائی تحقیقات میں ملوث نہیں ہوتے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے منموہن سنگھ کو ممبئی حملوں میں ملوث مجرموں اور ان کے سرغنہ کو بے نقاب اور گرفتار کرنے میں مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ کو جلد بھارت روانہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ ممبئی حملوں میں پاکستان میں موجود عناصر کے حوالے سے صدرِ پاکستان نے کہا ’یہ ایک عالمی سانحہ ہے۔ آج کل ہر دہشت گردی کا واقعہ عالمی سانحہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں مختلف شہریت کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ عالمی انٹیلیجینس ایجنسیوں کو بلایا جائے گا۔‘
ا نہوں نے سماج دشمن عناصر کے بارے میں کہا کہ وہ ایسے اقدامات کر کے رد عمل چاہتے ہیں لیکن اس پر شدید رد عمل نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی عوام اور حکومت پر زور دیا کہ وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔ داؤد ابراہیم اور لشکر طیبہ کے حافظ محمد سعید تک رسائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور قانون کے تحت ہی کام کیا جائے گا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جہادی کیمپس کی موجودگی کے حوالے سے بھارت کے مؤقف کے سوال پر صدر زرداری نے کہا کہ اگر اس معاملے میں شواہد پیش کیے جاتے ہیں تو ضرور ان کو بند کیا جائے گا اور جو یہ کیمپ چلا رہے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ سکیورٹی ایجنسی بریفنگ ان کے مطابق ممبئی حملوں میں پاکستانی حکومت یا کوئی بھی ادارہ ملوث نہیں ہے اور بھارت سے موصول ہونے والے پیغام میں مثبت زبان استعمال کی گئی۔ سنیچر کی شام کو صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔ جب اعلیٰ سکیورٹی اہلکار سے پوچھا کہ ایسی صورت میں افغان سرحد کا کیا بنے گا تو انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تناؤ کی صورت میں اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو قبائلی خود سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ بیت اللہ محسود ہوں یا بلوچستان کے قوم پرست رہنما وہ سب محب وطن ہیں اور پاکستان کے خلاف نہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ تحریک طالبان والے جو سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کر کے گلے کاٹ رہے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کریں گے تو وہ اس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔ غیر رسمی بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ پہلی بار بھارت نے اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان کی حکومت یا کسی ادارے پر تاحال نہیں لگایا اور جو شواہد پیش کرتے ہوئے تعاون کے لیے پیغام بھیجا ہے، اس کی زبان بھی مثبت ہے تو پھر ان کی درخواست پر آئی ایس آئی کے سربراہ کو دلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیوں تبدیل کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی کے سربراہ کے جانے سے صورتحال بہتر ہوتی نظر آئی تو یہ بھی کیا جائے گا۔ ایک اور اہلکار نے کہا کہ پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار ہے اور اس کے مطابق ان سے تعاون ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھارت نہیں جائئیں گے، تاہم ان کے مطابق اس ادارے کے ایک نمائندے دلی جائیں گے لیکن اس بارے میں ابھی وقت طے نہیں ہوا اور ایسا شاید بہت جلد نہ ہوسکے۔ |
اسی بارے میں پاکستان ملوث نہیں: گیلانی28 November, 2008 | پاکستان بغیر ثبوت پاکستان پر الزام زیر بحث28 November, 2008 | پاکستان ’پکڑے گئے جہاز پاکستانی نہیں‘28 November, 2008 | پاکستان ممبئی: ISI نمائندہ بھارت جائے گا28 November, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی سربراہ انڈیا جائیں گے28 November, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی کا سیاسی شعبہ ابھی بند نہیں ہوا24 November, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||