BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 November, 2008, 21:52 GMT 02:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گنبد پر نگاہیں ٹکائے خبر کے انتظار میں

نکھل سہگل
ہمیں اب بھی انتظار ہے کم سے کم کوئی خبر تو ملے ابھی تو ہم تاریکی میں ہیں۔ کچھ پتہ نہیں کہ آخر کیا ہوا: نکھل سہگل
شدت پسندوں کے حملوں کی کوریج کے لیے ستائس نومبر کی صبح جب میں ممبئی کے لیے روانہ ہوا تو ہوائی جہاز دلی کے صحافیوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں اس سوچ میں تھا کہ مجھے جاکر وہاں پہلے کیا کرنا ہے ہوگا۔ تاہم میری بغل والی سیٹ پر بیٹھے ایک شخص کی سسکیوں نے مجھے اپنی طرف راغب کر لیا۔

میں نے دیکھا کہ وہ بہت صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر پھر بھی بار بار آنسو ان کی آنکھ سے ٹپک ہی جاتے۔ میں نے سوچا پوچھ لوں کہ سر آپکو کیا پریشانی ہے مگر یہ سوچ کر ہمت نہیں پڑی کہ کہیں کسی کی شان میں گستاخی نہ ہوجائے۔

تقریبا آدھا راستہ طے کیا تھا کہ وہ خود ہی بول پڑے ’کیا آپ پریس سے ہیں؟‘ میں نے کہا ’جی ۔۔‘ تو بولے ’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ممبئی میں کرفیو نافذ ہے یا نہیں؟‘ میں نے کہا کہ ابھی تک کہ جو اطلاع ہے اس کے مطابق ممبئی میں کرفیو نہیں ہے۔

اب میرے سوال کی باری تھی۔ میں نے پوچھا سر آپ بہت پریشان دکھتے ہیں، کیا ہوا؟ ’میری وائف تاج میں ہی ٹھہری تھیں۔‘ یہ کہتے کہتے ان آنکھیں پھر بھر آئیں۔ان سے بات کرتے کرتے مجھے لگا کہ میں نے انہیں کہیں اس سے پہلے بھی دیکھا تھا اور پھر انہوں نے بتایا کہ وہ سانتونو سائیکیا ہیں یعنی انڈین ایکسپریس میں کام کر چکے سابق جرنلسٹ۔ اور ان کی بیوی کا نام سبینہ سہگل سائیکیا ہے۔

اس بات چیت کے دوران ان کی بائیں سیٹ پر بیٹھے ایک شخص ان کو دلاسا دینے کی کوشش کر تے رہے کہ ابھی سے وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں ممبئی پہنچتے ہیں پھر دیکھیں گے وغیر وغیرہ۔ لیکن ان کی پریشانی کم نہیں ہوئی اور انہوں نے ایئر ہوسٹس کے ناشتے کی پیشکش بھی ٹھکرا دی۔

میں نے پوچھا کہ آپ کی بیوی سے کوئی رابطہ ہوا ہے تو کہنے لگے کہ آخری ایس ایم ایس پونے چار بجے ملا تھا تب سے رابطہ منقطع ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ بہت مایوس دکھے۔ میں نے ان سے ایک متاثرہ شخص کی حیثیت سے بات کرنی چاہی تو ان کے بغل میں بیٹھے شخص نے کہا ’دیئر از نو سٹوری ان اٹ، پلز لیٹس ناٹ ٹاک اباؤٹ دس۔‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی کوئی کہانی نہ بنائی جائے۔

ستائیس نومبر کو میں جب بھی ہوٹل تاج کے چکر لگاتا تو وہ دونوں افراد وہاں نظر آتے تاہم بات نہیں ہو سکی۔ اٹھائیس تاریخ کی صبح ٹائمز آف انڈیا نے اپنے پہلے صفہ پر ہیڈ لائن دی کہ سبینہ کی تلاش اب بھی جاری لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ پتہ چلا کہ سبینہ اس اخبار کی کنسلٹنگ ایڈیٹر بھی ہیں۔

ہوٹل پر حملے کے بعد سبینہ نے اپنے شوہر، بھائی اور دوستوں کو جو ایس ایم ایس کیے ہیں، اخبارنے اس کی تفصیلات لکھی ہیں۔ ان میں سے بعض اس طرح ہیں۔ ’ہوٹل میں اندھا دھند فائرنگ ہورہی ہے اور ریسپشن پر فون کا کوئی جواب نہیں دے رہا ہے۔‘ دوسرا میسیج ’اس وقت میں بری طرح کانپ رہی ہوں‘ اگلا ’باہر بھیانک فائرنگ ہورہی ہے اور میری کھڑکی کے دروازے ٹوٹ چکےہیں، گرینیڈ کا دھماکہ میں نے سنا ہے اور اب یہاں افراتفری کا عالم ہے۔‘ آگے لکھتی ہیں ’اب میں بیڈ کے نیچے چھپی ہوں۔‘

بعض دوستوں نے انہیں فون کیا تو انہوں نے سرگوشی میں کہا ’میں بات کرنے کی حالت میں نہیں ہوں لیکن مجھے یہاں سے نکالو‘۔ ہوٹل کے ایک ملازم کو میسیج کیا ’وہ لوگ میرے باتھ روم میں ہیں۔‘ ان کا آخری مسیج ان کے شوہر سانتونو کے لیے تھا۔

جمعہ کے روز ہوٹل تاج کے باہر سانتونو نہیں دکھے مگر ان کی بغل والی سیٹ پر بیٹھے وہ شخص پورا دن وہاں زمین پر بیٹھے انتظار کرتے ملے۔ مین نے ان کے پاس جاکر پوچھا سر کیا اب آپ سے بات کرسکتا ہوں۔ کہنے لگے بالکل، میرا نام نکھل سہگل ہے میں سبینہ سہگل کا بھائی ہوں۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ٹائمز آف انڈیا نے جو لکھا ہے وہ درست ہے۔

بات چیت کے دوران انہوں نے کہا ’ہمیں اب بھی انتظار ہے کم سے کم کوئی خبر تو ملے ابھی تو ہم تاریکی میں ہیں۔ کچھ پتہ نہیں کہ آخر کیا ہوا۔‘

نکھل یہ سب باتیں اس وقت کہہ رہے تھے جب تاج ہوٹل میں کمانڈوز کا آپریشن تقریبا آخری مرحلے میں تھا اور یہ خبر عام ہوگئی تھی کہ اب تاج میں کوئی یرغمال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’ان کے نہ ہونے کے متعلق تو ہم نے ابھی گمان بھی نہیں کیا ہے جب وہ خبر ملے گی تب سوچوں گا۔ اب دیکھو یہ کب ختم ہوتا ہے ، میں الفاظ میں کیسے بتاؤں کہ اس وقت مجھ پر اور میرے گھر والوں پر کیا گزر رہی ہے۔‘

سبینہ سہگل ایک شادی میں شرکت کے لیے دلی سے ممبئی آئی تھیں تاہم تھکاوٹ کے سبب وہ جلدی ہوٹل واپس آگئی تھیں۔ تاج ہیریٹیج میں ان کا وہ نہایت آرام دہ کمرہ تھا جو تاج کے اصل گنبد سے متصل ہے اور جس کی کھڑکیاں سمندرکی طرف کھلتی تھیں۔ اسی گنبد اور اس کے آس پاس والے کمروں میں سب سے پہلے آگ لگی تھی جہاں سے پچاس گھنٹے بعد بھی رہ رہ کر دھواں نکل رہا ہے تاہم ہوٹل کے باہر زمین پر بیٹھے کئی لوگوں کی نگاہیں اسی گنبد پر ٹکی ہیں اور بس اس لیے بیٹھے ہیں۔

فائل فوٹومشکل انتظار۔۔۔
مدھو کو اوبرائے میں اپنے شوہر کا انتظار ہے
حملہ آورحملہ آوروں کی دلیری
حملہ آوروں کی دلیری حیران کن : عینی شاہدین
حملوں کے بعد، ممبئی والوں کا ردعمل’بہت ڈر گئي ہوں‘
حملوں کے بعد، ممبئی والوں کا ردعمل
ممبئی: کب کیا ہوا
ممبئی میں حملے، کب کیا ہوا؟
کولابہ کے مکین
’رات جیسے تیسے گزاری، پھر بھاگ گئے‘
ممبئی: بھارتی اخبارات
ممبئی کی خبر تمام خبروں پر چھائی ہوئی ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد