’کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مدھو کپور اوبرائے ہوٹل میں شدت پسندوں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب رہیں لیکن ان کے شوہر اشوک کپور ابھی بھی ہوٹل میں ہیں اور ان کے بارے میں کوئی بھی جانکاری نہیں مل پارہی ہے۔ مدھو نے بات تو کی لیکن تصویر کچھوانے سےانکار کر دیا۔ وہ ڈری ہوئی تو نہیں لگ رہی تھیں لیکن ان کے چہرے پر فکر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ مدھو کے شوہر 65 برس کے ہیں اور حملوں کے 35 گھنٹے گزر جانے کے بعد ان کے شوہر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس رات کے واقع کو یاد کرتے ہوئے مدھو کہتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کھانا کھا رہی تھیں کہ اچانک گولیوں کی آواز سنائی دی اور پھر ہوٹل میں اعلان ہوا کہ سبھی لوگ جلدی باہر چلے جائیں۔ وہ مز ید بتاتی ہیں ’میں بھاگی اور میرے ساتھ میرے ساتھ میرے شوہر بھی بھاگے۔ ہم لوگ نیچے کی طرف بھاگے۔ بہت افراتفری کا ماحول تھا۔ جب میں سیڑھیوں پر پہنچی تو پیچھے نہیں دیکھ پائی۔ اسکے بعد میں نے اپنے شوہر کو نہیں دیکھا۔ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ‘ لیکن کیا انہوں نے اس شدت پسند کو دیکھا جس نے ہوٹل میں لوگوں کو یرغمال بنایا تھا۔ اس پر مدھو کا کہنا ہے ’ہاں میں نے اسے دیکھا اور مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا ’ویٹ‘ یعنی انتظار کرو، لیکن میں نہیں رکی اور بھاگتی گئی۔ اس نے میرے ساتھ بھاگ رہے بوڑھے شخص کو گولی مار دی۔‘ مدھو کا کہنا تھا کہ اہلکار ٹھیک کام کر رہے ہیں لیکن حالات ایسے ہیں کہ کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔ اوبرائے کے کمروں میں رہنے والوں کے بارے میں تفصیلات مل رہی ہیں لیکن جو ریستوران میں تھے ان کے بارے میں تفصیلات نہیں مل پارہی ہیں۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا سورت میں مزید کئی بم ملے 29 July, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||