’یہ سب جلدی ختم ہو تاکہ ہم گھر جا سکیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں شدت پسندوں نے چھ سات مقامات پر کافی نقصان پہنچایا ہے، جن میں سے تاج ہوٹل اور ہوٹل اوبیرائے سبھی کی توجہ کا مرکز رہے کیونکہ ان میں بیرونی ممالک کے بہت سے شہری پھنسے تھے۔ تاہم ممبئی کے مصروف ترین بازار کولابہ میں ریواڑکر پچے پڑی گلی کے ایک مکان ناریمن ہاؤس میں سکیورٹی اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ اس مکان میں کرائے پر رہنے والے کئی اسرائیلی شہری ہیں جنہیں شدت پسندوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ جمعہ کی صبح اس مکان کی چھت پر ہیلی کاپٹر سے تقریبا دو درجن کمانڈوز اتارے گئے اور زبردست کارروائی کی گئی۔ پورے علاقے میں فوج اور پولیس کے دستے تعینات ہیں۔ وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا اور کئی بار مکان سے گرینیڈ بھی پھینکے گئے ہیں۔ ایک گرینیڈ مکان سے ذرا دور ایک پٹرول پمپ کے پاس گرا جس سے کافی نقصان ہوا تاہم آگ نہیں لگنے پائی۔ پیلے رنگ کا یہ مکان آس پاس کے کئی مکانوں سے گھرا ہے اور صبح تک اس پر خوبصورت گملے دیکھے جا سکتے تھے، تاہم اب اس کی چھت پر ہر طرف سے کمانڈوز کی حرکت نظر آرہی ہے۔ اس مکان کے آس پاس رہنے والے سبھی لوگوں نے گھر خالی کرکے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں پناہ لے رکھی ہے۔ بملا دیوی کا کہنا تھا کہ پہلی رات ہم سبھی نے جیسے تیسے گزاری اور ’پھر پولیس نے کہا کہ سبھی محفوظ مقام پر چلے جاؤ، یہاں خطرہ ہے تو میرا بیٹا اپنے دوست ساجد کے پاس ہم سب کو لے آیا۔‘ بملا کا خاندان بہت ڈرا ہوا ہے۔ مکان سے تقریبا آدھا کلو میٹر دور ایک ہال میں تقریباً سات خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ انہیں میں سے ایک بھارتی یادو نے بتایا کہ ’ہم لوگ جس چال میں رہتے ہیں اسی کے پاس وہ مکان ہے جس میں شدت پسند ہیں۔ ہم سب بہت ڈرے ہوئے تھے، اس لیے کسی طرح ایک رات گزارنے کے بعد اب یہاں پناہ لی ہے۔‘ کیلاش کا کہنا ہے کہ لوکوں کو اس گلی سے نکالنے میں انہوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔’پولیس سے صلاح و مشورے کے بعد ہم نے یہ قدم اٹھایا کیونکہ وہاں پر سبھی سہمے ہوئے تھے۔‘ دس سال کی ایک بچی اکشرہ گایکواڑ کہتی ہیں کہ انہوں نے دیکھا کا ان کے برابر بغل والے گھر کے پائپ سے ایک انکل اتر رہے تھے۔ پھر پہلی منزل پر پہنچ کر انہوں نے شیشہ توڑا اور فائرنگ کی، پہلے ہمیں لگا کہ پٹاخہ پھٹ رہا ہے لیکن جب دھماکہ ہوا تو ہم سبھی بھاگے۔‘ مہیشوری کہتی ہیں کہ دو روز سے ہم دوسرے کےگھر رہنے پر مجبور ہیں، ’ہمیں ڈر لگ رہا ہے، تاہم ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب جلدی ختم ہو تاکہ ہم گھر واپس جا سکیں۔‘ |
اسی بارے میں ’غیر ملکی سامنے آ جائیں‘27 November, 2008 | انڈیا ’ان کی دیدہ دلیری حیران کن تھی‘ 28 November, 2008 | انڈیا اوبیرائے ہوٹل پر فوج کا قبضہ، ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14328 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||