’میں یتیم ہو گئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ ممبئی کے سینٹ جارج ہسپتال کی بینچ پر بیٹھی زاروقطار رو رہی تھی۔ ساڑھی کے پلو سے خود ہی اپنے آنسو پونچھ رہی تھی کیونکہ اس کے آنسو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا ہر کوئی لاشوں میں کسی اپنے کو تلاش کر رہا تھا۔ ہسپتال کے داخلی دروازے سے اندر تک لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ہسپتال میں پینسٹھ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو لایا گیا تھا۔ شیلا کھرت مل اپنی ماں کی لاش ملنے کا انتظار کر رہی تھی۔ پولیس کاغذی کارروائی پوری کرنے میں مصروف تھی۔ شیلا کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ وہ تو انہیں اور بھائی بالاجی کو شولاپور کی ٹرین میں سوار کرانے آئی تھی۔
دو ماہ قبل ہی شیلا کے باپ کا انتقال ہوا تھا۔ ماں انہی کی آتما کی شانتی کے لیے دیوی کے درشن کے لیے جانا چاہتی تھی۔’میں یتیم ہو گئی اب اس دنیا میں میرا کوئی سہارا نہیں رہا۔ پہلے باپ پھر ماں اور اب بڑا بھائی بھی زخمی ہے۔ وہ رکشہ چلاتا ہے اگر پیر کا زخم ٹھیک نہیں ہوا تو پھر کیا ہو گا۔‘ شہر میں بدھ کی رات ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں چھترپتی شیواجی ٹرمنس ریلوے پلیٹ فارم پر ہوئیں جہاں رات دس بجے کے قریب حملہ آور مشین گن لیے لوگوں کو بھونتے چلے گئے۔ ضمیر اپنے والد اور ماموں کے ہمراہ حاجیوں کو ممبئی رخصت کرنے آئے تھے۔ سب شولاپور جانے والی ٹرین سدیشور ایکسپریس کا انتظار کر رہے تھے۔ اچانک منٹوں میں وہ ہو گیا جس کا انہیں خواب و خیال میں بھی اندازہ نہیں تھا۔گولی ضمیر کے پیر کو چھو کر نکل گئی وہ خود کو خوش قسمت سمجھ کر بھاگا۔ اس نے واپس آکر دیکھا تو اس کے والد عبدالعزیز اور ماموں اعجاز امام صاحب کی لاشیں پلیٹ فارم پر پڑی تھیں۔
ممبئی میں مرنے والوں میں چودہ پولیس اہلکار ہیں ان میں سے ایک پولیس سب انسپکٹر بابو دُرگڑے کے بھانجے ہسپتال کے مردہ خانے کے پاس کھڑے رو رہے ہیں۔ میرے ماموں نے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ٹرین سے گھر جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن کیا پتہ کہ وہ ان کا آخری سفر ہو گا۔ جے جے ہسپتال کا مردہ گھر بھی سینٹ جارج ہسپتال کی طرح لاشوں سے اٹا پڑا تھا۔ایک کے بعد ایک ایمبولینس آتی اور لوگ اپنوں کی شناخت کے بعد ان کی لاشوں کو لے جا تے۔ مردہ خانے کے کمرے نے امیری غریبی کے فرق کو ہی مٹا دیا تھا کمرے میں ایک طرف امیر غیر ملکی سیاحوں کی لاشیں تھیں تو وہیں جھونپڑے میں رہنے والی ربیع اللہ خان کی ساس زرینہ کا مردہ جسم رکھا تھا۔ ربیع پیاز آلو کی گاڑی چلاتا تھا۔اس کی ساس اور اس کی بیوی ریما شیخ ڈاکیارڈ روڈ پر کھڑی ٹیکسی کے پاس سے گزر رہے تھے کہ اچانک بم پھٹ گیا۔ زرینہ نے تو موقع پر دم توڑ دیا لیکن بیٹی ریما کا سیدھا ہاتھ کٹ گیا اسی کے ساتھ پیر بھی آدھا اُڑ گیا۔ریما کے دو بچے ہیں اور شوہر ربیع پریشان ہے کہ اس غریبی میں اب وہ اپنی بیوی کا علاج کیسے کرائے۔ |
اسی بارے میں تاج ہوٹل سے ’یرغمالی رہا‘، کارروائی جاری، مرنے والوں کی تعداد 10127 November, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کا مقصد ابھی پوری طرح واضح نہیں27 November, 2008 | انڈیا ’حملہ آوروں کے ٹھکانے بیرون ملک‘27 November, 2008 | انڈیا ’بچے ماں کے بغیر رو رہے ہیں‘27 November, 2008 | انڈیا ممبئی حملے، ایک روزہ سیریز منسوخ27 November, 2008 | انڈیا حملوں کی دنیا بھر میں مذمت26 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||