ممبئی: کب کیا ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فائرنگ کی شروعات چھبیس نومبر کی رات تقریبا 10 بجے جب کچھ ٹی وی چینلز نے ممبئی میں کئی مقامات پر فائرنگ کی خبر نشر کرنی شروع کی تو اس وقت کسی کو گمان بھی نہیں تھا کہ یہ کوئی عام فائرنگ نہیں بلکہ یہ شدت پسندی کے سب سے بڑے واقعہ کا آغاز تھی۔ رات بارہ بجے تک جیسے جیسے خبروں کے تاروں کو ایک ساتھ جوڑا گیا تو پتہ چلا کہ جنوبی ممبئی کے کم از کم سات مقامات پر شدت پسند حملے ہوئے ہیں۔ یہ حملے اپنی نوعیت کے پہلے حملے تھے جس میں شہریوں پر اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں ، انہیں یر غمال بنایا گیا اور کئی مقامات پر دستی بم پھینکے گئے۔ اس وقت شاید یہی سوال ان لوگوں کے ذہن میں ابھر رہا تھا ۔۔یہ ہو کیا رہا ہے ممبئی میں؟ ہلاکتیں، یرغمالی اور زخمی آہستہ آہستہ یہ واضح ہوتا گیا کہ ممبئی کے مشہور چتھرپتی ریلوے ٹرمینل ، گیٹ وے آف انڈیا کے سامنے واقعہ تاریخی سیون سٹار تاج محل ہوٹل ،دیگر سات ستارہ ہوٹل اوبرائے ٹرائڈ ہوٹل ، کاما ہسپتال، لیوپوڈ ریستوران اور نارمن ہاؤس کو شدت پسندوں نے اپنا نشانہ بنایا ہے۔ اس وقت تک ممبئی کا پولیس محکمہ اور دیگر سکیورٹی فورسز حرکت میں آ چکی تھی۔ شہر کے متاثرہ علاقوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ انسداد دہشتگردی کے دستے نے شہر کے متاثرہ مقامات کا رخ کیا اور صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ لیکن کچھ دیر میں خبر آنی شروع ہو گئی کہ انسداد ہشتگردی دستے کے سربراہ ہیمنت کرکرے ، ممبئی پولیس کے ایک سیئنر افسر اور اینکاؤنٹر سپیشلسٹ وجے سلسکر اور ممبئی پولیس کے سیئنر اہلکار اشکو کامٹے شدت پسندوں کی فائرنگ ميں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہوٹلز پر قبضے اور فوجی کاروائیاں جمعرات کی صبح تک یہ تصویر صاف ہو گئی کہ شدت پسندوں نے تاج محل ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل ، اور ناریمن ہاؤس میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ان مقامات سے رک رک کر فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اس وقت تک ان مقامات کو فوج نے اپنے قبضے ميں لے لیا تھا۔ اس سے قبل بحریہ کے کمانڈوز کی کارروائی جاری تھی۔ صبح ہونے تک ان مقامات پر نیشنل سکیورٹی گارڈز یعنی این ایس جی کے کمانڈوز ممبئی پہنچ گئے اور انہوں نے کمان اپنے ہاتھ میں سنبھال لی۔ کارروائی میں بظاہر نظر آیا کہ ان کا مقصد سب سے پہلے ان لوگوں کو حفاظت سے باہر نکالنا ہے جنہیں شدت پسندوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ لیکن وقت فوقتاً یرغمالیوں کی ہلاکتوں کی خبریں، دستی بموں اور فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ ہرگولی کی آواز پر ایسا محسوس ہوا کہ شاید یہ آخری آواز ہو اور انتظامیہ کہے کہ ممبئی پر چھائے دہشت کے کالے بادل اب چھٹ چکے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہندوستان کا نائن الیون جمعرات کا دن بھی گزر گیا لیکن ان مقامات پر سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان مقابلہ جاری رہا۔ پورے ملک کی عوام یہ جاننے کے لیے بےچین تھی کہ ممبئی میں اس وقت کیا ہو رہا ہے۔اس واقعہ نے ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہلچل مچا دی۔ اس کی ایک وجہ یہ رہی کہ جن مقامات پر حملے ہوئے اور لوگوں کو یرغمال بنایا گیا وہاں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد موجود تھی ، ناریمن ہاؤس یہودیوں کا ایک اہم مرکز ہے اور دوسرا یہ کہ ہندوستان کی تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا شدت پسندوں کا حملہ تھا۔ پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ نے ممبئی کے حملوں کو اپنی اہم خبروں میں شامل کیا۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کے ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی اور ہندوستان کو ہر قسم کے تعاون کی پیش کش کی۔ فوج کی پہلی کامیابی جمعہ کی دوپہر این ایس جی کمانڈو کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب اوبیرائے ہوٹل میں ان کا قبضہ ہوگیا اور انہوں نے دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ اس سے قبل جمعہ کی صبح اوبیرائے ٹرائڈینٹ ہوٹل سے سو کے قریب افراد کو رہا بھی کرا لیا گیا تھا۔این سی جی کمانڈو کے چیف نے یہ بھی بتایا انہوں نے ہوٹل سے چوبیس لاشیں نکالی ہیں اور کل یعنی جمعرات کو چھ لاشیں نکالی گئی تھی۔ لیکن ديگر دو مقامات ناریمن ہاؤس اور تاج ہوٹل میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم جاری رہا۔ پاکستان کا نام ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے جب ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ان حملوں میں کچھ عناصر کا تعلق پاکستان سے ہے تو پاکستان میں ردعمل پیدا ہونا لازمی تھا۔ پاکستان سے خبر آئی کہ حکومت ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کو ہندوستان بھیج رہی ہے۔ سیاست کے درمیان جمعہ کی شام تک ناریمن ہاؤس پر بھی این ایس جی کمانڈوز کا قبضہ ہو چکا تھا۔ کمانڈوز نے وہاں موجود دونوں شدت پسندوں کو مار گرایا تھا لیکن اس آپریشن کا انجام اس تکلیف دہ حقیقت کے ساتھ ہوا کہ شدت پسندوں نے اپنے پانچوں یرغمالیوں کو قتل کر دیا تھا۔ ان کی شناخت اس وقت تک نہیں ہو پائی تھی۔ دوسری جانب تاج ہوٹل کی کئی منزلوں پر رک رک کر فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ کمانڈوز آپریشن میں مصروف تھے۔ ممبئی کی علامت اور ہمیشہ روشن رہنے والا تاج ہوٹل اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ کبھی کہیں دھماکوں کے ساتھ ہوٹل کے کسی کمرے میں آگ لگ جاتی ہے۔ سبھی کو اس بھیانک واقعہ کے اختتام کا انتظار ہے |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||