تاج ہوٹل اور اس کے کبوتر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاج ہوٹل اور اس کے بالکل سامنے کھڑے گیٹ وے آف انڈیا کا ایک حصہ ان سینکڑوں کبوتروں کی بھی آماجگاہ ہے جنہیں تاج ہوٹل پر گزرنے والی سے گزرنا پڑا۔ انہیں دستی بموں کے دھماکوں کا بھیسامنا کرنا پڑا اور دو طرفہ فائرنگ کا بھی۔ تاج ہوٹل کی فائرنگ اور تصادم کو شدت پسندوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے بعد اگر کسی نے بہت قریب سے دیکھا ہے اور سہا ہے تو وہ یہ کبوتر ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تصادم ختم ہونے پت کئی کبوتر مردہ اور کئی زخمی پائے گئے۔ ان میں سے کئی کبوتروں کے پر زخمی تھے۔ جب بھی فائرنگ یا دھماکہ ہوتا تو یہ کبوتر پرا مار کر اڑتے اور تاج کے اوپر آسمان میں چکر لگاتے دکھائی دے رہے تھے۔ جیسے ہی آپریشن ختم ہوا سارے کبوتر پھر سے اپنی اپنی جگہ پر پہنچ گئے۔ ان کبوتروں کو بسکٹ کھلاتے پانڈرنگ دیشمکھ کہتے ہیں’میں بھی یہاں دو تین دن سے ہوں۔ پہلے بطی جب میں یہاں آتا تھا توانہیں باجرہ کھلاتا تھا لیکن پچھلے تین دن سے انہیں کچھ کھانے کو نہیں ملا تو بسکٹ کھلارہا ہوں۔ ‘
جانوروں میں بھی احساس ہوتا ہے، یہ میں نے سنا تھا لیکن پہلی بار مجھے یہ احساس تب ہوا جب میں نے یہ ڈرے اور سہمے کبوتر دیکھے۔ پانڈرنگ کو کبوتروں سے پیار ہے وہ کہتے ہیں ’ممبئی کا کوئی بھی شخص یہاں آتا ہے تو وہ گیٹ وے آف انڈیا اور تاج ہوٹل کے بعد ان کبوتروں کے ساتھ فوٹو کھنچواتا ہے۔ یہ یہاں کا حصہ ہیں اور اسی لیے انہیں مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔‘ امن کا پیغام دینے والے ان کبوتروں کو اس بار تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ گھنٹوں کے بعد کبوتروں کی زندگی واپس معمول پر آجائے گی اور شاید ممبئی والوں کی بھی لیکن ان کے دل میں بسا ڈر کبھی ختم ہوگا یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||