پاکستان ملوث نہیں: گیلانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان ممبی بم دھماکوں میں ملوث نہیں ہے۔ لاہور کے ہوائی اڈے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب ہم ان دھماکوں میں ملوث نہیں تو پھر احساس جرم میں کیوں مبتلا ہوں۔ انہوں نے کہا بھارتی وزیر اعظم نے تعاون کے لیے درخواست کی جس پر انہیں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نےٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ان سے یہ کہا کہ ابتدائی شوائد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا کنکشن کراچی سے ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم سے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلق چاہتاہے اور اس کے بھارت اور افعانستان کے اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان بھارت کے ہرقسم کے تعاون کے لیے تیار ہے اس لیے خطے میں تو اس وقت اثرات مرتب ہونگے جب تعاون میں کمی آرہی ہو۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک انٹیلی جنس کے تعاون کا تعلق ہے تو اس کی تفصیلات طے کرنا حکومتوں کا کام ہے اور جب حکومتیں آپس میں بیٹھ کر یہ طے کریں تو پھر کوئی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ جاسوس طیاروں کو گرانے کی صلاحیت رکھنے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جہاں صلاحیت کا تعلق ہے اس پر کسی کی دو آراء نہیں ہے کیونکہ پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی ایک بہترین فوج میں ہوتا ہے اور پاکستان کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ امریکہ میں جب نئی حکومت آجائے گی تو یہ معاملات درست ہوجائیں گے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دورمیں بنائی جانے والی نیشنل سکیورٹی کونسل کو ختم کردیا گیا ہے کیونکہ ان کے بقول اس کونسل کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ اس نیشنل سکیورٹی کونسل کو تسلم نہیں کرتے جو سابق صدر پرویز مشرف نے بنائی تھی۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کی صدر پاکستان آصف زرداری سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے قومی سلامتی امور پر بات چیت کی۔ ان کے بقول انہوں نے اور صدر پاکستان آصف زرداری نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سابق صدر مشرف کی بنائی ہوئی نیشنل سییورٹی کونسل کی یہاں کوئی افادیت نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت آئین میں جو ترمیم کی گئی تھی اسی کے تحت نیشنل سکیورٹی قائم کی گئی تھی۔ تیرہ رکنی اس کونسل کے سربراہ صدر مملکت ہیں جبکہ وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ ، سپیکر قومی اسمبلی، چاروں وزراء اعلیٰ ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ، تینوں مسلح افواج، بری ، بحری اور فضائیہ کے سربراہان اس کونسل کے اراکین ہیں۔ یوسف رضاگیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قومی سلامتی امور کے بارے میں شخصیت کے بجائے ادارے کو مضبوط بنایا جائے۔ان کے بقول ماضی میں بھی ایک شحض کو مقتدر بنانے کےلیے یہ کونسل تشکیل دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں بھی اس طرح کی کونسل تشکیل دینے کی تجویز دی گئی تھی لیکن نواز شریف نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ ادھر مسلم لیگ نون نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کو ختم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل سے بات ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنماء احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مثیاق جمہوریت میں یہ اس بات پر اتفاق کیاگیا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کو ختم کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت آئین میں ترمیم کرتے ہوئے نیشنل سکیورٹی کونسل قائم کی تھی تاہم اس سکیورٹی پر مختلف حلقوں کی طرف سے نکتہ چینی کی گئی تھی ۔ بعدازاں جب مسلم لیگ قاف اور متحدہ مجلس عاملہ کے درمیان ایل ایف او کے تحت کی گئی ترامیم پر مذاکرات ہوئے اور ستردھویں ترمیم کے ذریعے نیشنل سکیورٹی آئین کا حصہ بنانے کے بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مبصرین کی رائے ہے کہ نشینل سکیورٹی کونسل جو ایک مشاورتی ادارہ ہے اس کی وجہ سے وزیر اعظم کے اختیارات پر زد پڑتی تھی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نشینل سکیورٹی کونسل کو چونکہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اس لیے اسے منسوخی بل کے ذریعے سادہ اکثریت سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’وردی نہیں وردیاں اترنے والی ہیں‘25 April, 2004 | پاکستان ’نیشنل سکیورٹی کونسل ختم کریں‘ 22 January, 2008 | پاکستان قومی سلامتی کونسل کا قیام28 January, 2004 | پاکستان ’قومی سلامتی کونسل‘ بل منظور07 April, 2004 | پاکستان سکیورٹی کونسل، مجلسِ عمل تقسیم 31 May, 2005 | پاکستان پاکستانی فوج کی دیرینہ خواہش 08 April, 2004 | پاکستان این ایس سی کا قانون بن گیا25 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||