سکیورٹی کونسل، مجلسِ عمل تقسیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعلی سرحد اکرم درانی اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نےنیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تو وہ مجلس عمل کی صدارت سے مستعفی ہوجائیں گے جبکہ مجلس عمل کی سپریم کونسل نے ان سے خط واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس آٹھ جون کو طلب کیا گیا ہے اور اس میں شرکت کے فیصلے کے حوالے سے جماعت اسلامی کے ہیڈ کواٹر منصورہ میں آج مجلس عمل سپریم کونسل کا اجلاس ہواجس میں قاضی حسین احمد شریک نہیں تھے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق قاضی حسین احمد کراچی میں جماعت اسلامی کے رہنما اسلم مجاہد کے جنازے میں شرکت کے لیے گئے تھے اس لیے شریک نہیں ہوسکے۔ اجلاس میں قاضی حسین احمد کا ایک خط تقسیم کیا گیا جس میں انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل کو پارلیمنٹ سے بالاتر اور ایک غیر آئینی ادارہ قرار دیا اور کہا کہ’ایسے ادارے کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے جس کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف ہوں‘۔ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ اگر اس ادار ے کا سربراہ وزیر اعظم کو بنا دیا جائے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں رہے گا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ’اگر مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان اور وزیر اعلی سرحد نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوئے تو ان کے لیے مجلس عمل کے صدر کے عہدے پر رہنا ممکن نہیں ہوگا۔‘ اجلاس کے بعد منصورہ میں مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نےذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہےکہ’ مجلس عمل کی سپریم کونسل نے قاضی حسین احمد سے اپنا خط واپس لینے کی اپیل کی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل میں شرکت کافیصلہ مجلس عمل کےسربراہی اجلاس تک مؤخرکر دیا گیا ہے جو آٹھ جون کے نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس پہلے اسلام آباد میں ہوگا۔ آئین میں سترہویں ترمیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والے نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ، صدر جنرل پرویز مشرف ہیں جبکہ وزیراعظم، چئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، چاروں وزراء اعلیٰ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے علاوہ چئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج یعنی بری، بحری اور فضائیہ کے سربراہان اس کونسل کے اراکین ہیں۔ جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ریاض درانی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اعتراض بلا جواز ہیں ان کا کہنا ہے کہ صرف جے یوآئی ہی نہیں ان کے بقول مجلس عمل کی بیشتر جماعتیں نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شریک ہونے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کا ادارہ سترہویں ترمیم کے نتیجے میں بنا ہے اور یہ ترمیم خود مجلس عمل کی حمایت کی وجہ سے ممکن ہوسکی اس کے علاوہ جب وزیراعلی سرحد خود صدر مشرف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کے اختلاف کھل کر سامنے آئے ہیں اور اس تناظر میں مجلس عمل کا آئندہ سربراہی اجلاس بری اہمیت کا حامل ہے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے شام کو لاہور میں مجلس عمل کے زیر اہتمام ہونے والے کسان مزدور کنونشن کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ خط مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اراکین کو لکھا تھا اور وہ اس پر عوامی سطح پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس سے پہلے انہوں نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل فوج کے ماتحت ایک ادارہ ہے اور پاکستان میں فوج کی دراندازی کی علامت اور مارشل لاء کا تسلسل ہے انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کبھی بھی ایک جمہوری ملک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||