پاکستانی سلامتی کونسل کا اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں شروع ہوگیا ہے، جس میں حزب مخالف کے نمائندے شریک نہیں ہیں۔ اس متنازعہ ادارے کے ذریعے فوج کا سیاست میں کردار متعین کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آج کے اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کاروائی، بھارت کے ساتھ ہونے والے جامع مزاکرات اور دیگر اہم قومی اہمیت کے حامل معاملات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعظم شوکت عزیز بھارتی قیادت سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما مولانا فضل الرحمٰن، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ان کی جماعت کے وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد اکرم درانی بلحاظ عہدہ، کونسل کے رکن ہیں، جو شرکت نہیں کر رہے۔ قومی سلامتی کونسل کے قیام سے اب تک آج دوسرا اجلاس ہورہا ہے۔ مجلس عمل کے دونوں ارکان کونسل کے پہلے اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا موقف رہا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے قیام سے پاکستان میں پہلی بار فوج کو سیاسی امور میں باضابطہ کردار حاصل ہو گیا ہے۔ جبکہ مذہبی جماعتوں کا موقف ہے کہ صدر کے بجائے اس ادارے کا سربراہ اگر وزیراعظم کو بنایا جائے تو وہ اس ادارے کو قبول کرلیں گے۔ تیرہ رکنی سلامتی کونسل جس کے سربراہ صدر ملکت ہیں، اس کے اراکین میں وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی کے سپیکر اور قائد حزب اختلاف، چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، اور تینوں مسلح افواج ( بری، بحری اور فضائیہ) کے سربراہ شامل ہیں۔ بظاہر یہ کونسل ملکی سلامتی، دفاع اور بحران جیسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے مشاورتی فورم کا کردار ادا کرے گی۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ پارلیمان سے بالاتر ہے اور اس سے جمہوریت کو شدید دھچکا لگے گا، جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کونسل کے قیام سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور مستقبل میں فوجی مداخلت کا راستہ روکنے میں مدد ملے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||