’وہ موت کا بلاوا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے سرکاری جے جے ہسپتال کے مردہ خانے کے اطراف تعفن میں سانس لینا دوبھر ہے۔ ہسپتال میں سینچر کے روز بھی لاشوں کا آنا بند نہیں ہوا ہے۔ صحافیوں کو ہسپتال میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ مردہ خانے میں آپریشن میں مارے گئے حملہ آوروں کی لاشوں کو بھی لایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک ایسے پانچ حملہ آوروں کی لاشیں ہسپتال کے مردہ گھر میں رکھی گئی ہیں۔ ہم کسی طرح ہسپتال کے اندر جانے میں کامیاب ہوئے۔ مردہ گھر کے پاس اسرائیلی، امریکی باشندوں کے درمیان دو برقع پوش خواتین ملیں۔ ان کا چھوٹا بھائی اخلاق احمد خان چھبیس نومبر کی صبح ہی اترپردیش کے بستی ضلع کے گاؤں سنت کبیر نگر سے ممبئی پہنچا تھا۔ اخلاق احمد خان کمپیوٹر کورس مکمل کرنے کے بعد ممبئی کام کی تلاش میں آئے تھے۔ ممبئی میں اپنے دوستوں شیخ مقصود اور فیروز خان کے ساتھ وہ اسی رات ہوٹل تاج پہنچے کیونکہ وہاں بستی کے ممبر پارلیمنٹ لال منی آئے تھے۔ ممبئی کے کرلا علاقے میں رہنے والی اخلاق کی بہن فریدہ خان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ’ہمارے بھیا ای کا ہو گوا تو کے، اللہ کیسن صبر کری۔‘ (میرے بھائی تمہیں یہ کیا ہو گیا ہے ہم کیسے صبر کریں)
فریدہ کہتی ہیں کہ ان کے بھائی کو ان کی موت یہاں کھینچ کر لائی تھی ورنہ وہ اسی روز ممبئی کیوں آتا اور اگر آیا بھی تو ہوٹل تاج نہیں جاتا۔ فریدہ کے مطابق جب دیر تک بھائی گھر نہیں آیا اور ٹی وی پر حملے کی خبریں سنیں تو گھبراہٹ ہوئی کہ یہ کیا ہوا اور آیا اخلاق خیریت سے ہے یا نہیں۔ ’اس کے ایک دوست کا فون لگا۔اس نے روتے ہوئے بتایا کہ یہاں گولیاں چل رہی ہیں اور وہ لوگ سیڑھی کی جانب اوپر نیچے بھاگ رہے ہیں لیکن پھر اچانک فون بند ہو گیا۔‘ فریدہ کے شوہر یونس کے مطابق اخلاق کو اسی روز دہشت گردوں نے گولی مار دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا جسم پوری طرح پھول چکا ہے۔ اخلاق کی لاش کو ابھی مردہ گھر کے برف خانے میں رکھا جائے گا کیونکہ لاش کی ایسی حالت نہیں ہے کہ اسے گاؤں لے جایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں سے ان کے والد، بیوی اور دو بچے کل تک ممبئی پہنچیں گے اس کے بعد ان کے آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ اب تک جے جے ہسپتال میں ایک سو چونتیس لاشوں کو لایا جا چکا ہے۔ جن میں تیرہ غیر ملکی ہیں۔ان میں برطانیہ ،اٹلی، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی، تھائی لینڈ، امریکہ اور اسرائیل کے باشندے ہیں۔ ابھی تک اٹھارہ لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جن میں نو غیر ملکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||