ممبئی: ISI نمائندہ بھارت جائے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے بھارت کو ممبئی حملوں کے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش میں تبدیلی لاتے ہوئے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کی جگہ اب کسی نمائندے کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم سید یوسف رضا نے آج وفاقی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس ممبئی حملوں سے پیدا صورتحال پر غور کے لیے اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔ وزیر اعظم جو کل شام لاہور دو روزہ دورے پر پہنچے تھے وہاں اپنی تمام تر مصروفیات منسوخ کرتے ہوئے واپس اسلام آباد روانگی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان کی جانب سے ایک لائن کے مختصر بیان میں اچانک ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا کی جگہ اب کسی نمائندے کو ہندوستان بھیجنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کل بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ کو روانہ کرنے کی ان کی درخواست منظور کر لی تھی۔ اس فیصلے میں سرکاری ذرائع کے مطابق صدر اور فوجی سربراہ سے مشاورت شامل تھی۔ وزیر اعظم کے جمعے کو جاری بیان میں بھی شامل تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس دورے کی تفصیلات طے کرنے کے بعد یہ دورہ جلد از جلد ہوگا۔ تاہم اس بیان کے چند گھنٹوں بعد اس وعدہ میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے سرکاری بیان میں اس پر روشنی نہیں ڈالی گئی ہے۔ کچھ لوگ خود آئی ایس آئی یا پھر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دباؤ کو اس فیصلے میں تبدیلی کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی یہ دورہ کرتے تو پاکستان بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا ایسا دورہ ہوتا جس کی وجہ سے اسے غیرمعمولی قرار دیا جا رہا تھا۔ | اسی بارے میں ’کچھ عناصر کا تعلق پاکستان سے‘28 November, 2008 | انڈیا ’حملہ آوروں کے ٹھکانے بیرون ملک‘27 November, 2008 | انڈیا ’حملوں پر پاکستان سے بات کریں‘28 November, 2008 | انڈیا ’ممبئی لہولہان اور ہندوستان کا11/9 ‘28 November, 2008 | انڈیا ممبئی حملے، پاکستان کی مذمت27 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||