آئی ایس آئی کا سیاسی شعبہ ابھی بند نہیں ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے برعکس کے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا سیاسی شعبہ بند کر دیا گیا ہے، ایک اعلی سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ موجود ہے تاہم صرف غیرفعال ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا سیاسی شعبہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سیاسی حکومتوں کو کمزور کرنے اور سیاستدانوں کو دباؤ میں رکھنے جیسے مقاصد کے لیئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسی سیاسی مداخلت کی وجہ سے اس ادارے کو کافی بدنامی ملی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز ملتان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی ونگ کو بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی اب اپنی تمام تر توجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ایک اعلی سکیورٹی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ آئی ایس آئی کا سیاسی شعبہ صرف عملی طور پر بند ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے سے منسلک افسران موجود ہیں اور ابھی تک انہیں کوئی اور ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی شعبہ موجود ہے تاہم کام نہیں کر رہا۔
پاکستان فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن میجر جنرل شجاع پاشا نے گزشتہ دنوں اس حساس قومی ادارے کا چارج سبنھالا ہے۔ بطور ڈی جی ایم او بھی ان کا اکثر وقت دہشت گردی پر قابو پانا تھا اور اب توقع کی کی جا رہی ہے کہ نئے عہدے پر بھی ان کی پہلی ترجیع دہشت گردی ہوگی۔ ماضی میں سیاست میں عمل دخل کے بارے میں آئی ایس آئی کا آج بھی موقف ہے کہ وہ اس نے اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا بلکہ اس وقت کے حکمرانوں کی ایماء پر کیا۔ البتہ سیاسی مبصرین آئی ایس آئی کے ماضی کے کردار کو سیاسی حکومتوں کو سیاستدانوں کے خلاف عسکری قیادت کی سازش کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ خود اس ادارے کے اہلکار مانتے ہیں کہ سیاسی مسائل میں الجھنے کی وجہ سے اسے بدنامی کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور عوام کا قدرے اعتماد بھی کھویا۔ اعلی سکیورٹی اہلکار کے بقول آئی ایس آئی آج کل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ ’اب یہ ادارہ سیاسی معملات سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہ رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ اب سیاستدانوں پر نظر رکھنے جیسی ماضی کی مصروفیت ترک کر دے۔‘ تاہم بعض ذرائع کے مطابق بعض سیاستدان آج بھی آئی ایس آئی کا دروازہ سینیٹر بنائے جانے کی امید پر کھٹکھٹانے پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ادارے کو شکایت ہے کہ کئی لوگ خود سے غیرقانونی طور پر اس کا نام استعمال کرکے اپنے ذاتی کام نکلواتے رہتے ہیں۔ آئی ایس آئی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ وزراء کے انتخاب یا منظوری میں بھی اب کوئی کردار نہیں رکھتی۔ ایک اہلکار کے مطابق یہ سیاسی حکومتوں کا اختیار ہے کہ وہ جسے چاہیں وزیر بنائیں یا نہ بنائیں۔ بعض مبصرین کے مطابق آئی ایس آئی کے سیاسی شعبے کے مکمل طور پر بند نہ ہونے کی وجہ سے اس کے دوبارہ استعمال کا خدشہ موجود رہے گا۔ | اسی بارے میں آئی ایس آئی کا سربراہ کیوں تبدیل؟03 October, 2008 | پاکستان بریفنگ، اجلاس پیر تک ملتوی 17 October, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے مظاہرہ29 October, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی بریفنگ دے گی21 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||