لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاپتہ افراد کی بازیابی کےلیے کام کرنے والی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بری فوج کے جنرل ہیڈ کواٹر اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بیٹھے امریکی مفادات کا تحفط کرنے والے فوجی آفسران کو باہر نکالنا ہوگا۔ بدھ کے روز اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے نزدیک ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام امریکہ میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ حکومت متعدد بار لاپتہ افراد کے بارے میں خوشخبری کا وعدہ کر چکی ہے لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے بلکہ موجودہ دورِ حکومت میں مزید ستر افراد لاپتہ ہو چکے ہیں ۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بری فوج کے جنرل ہیڈ کواٹر اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بیٹھے ایسے فوجی افسران کو باہر نکالنا ہوگا جو امریکی مفادات کا تحفط کرتے ہوئے مزید افراد کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے کا کہتے ہیں۔ تاہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت کو ہر ممکن طریقے سے مجبور کیا جائے گا کہ وہ ہمارے پیاروں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے کے معاہدے منسوخ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں بش انتظامیہ جانے والی ہے اور ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے آقا صدر بش سے درخواست کریں کہ جانے سے پہلے امریکی جیلوں میں قید ہمارے شہریوں کو رہا کر دیں۔ آمنہ مسعود کے مطابق انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے امریکہ کے صدارتی امیدوار باراک اوباما اور جان میکن کو خطوط لکھیں ہیں ۔ مظاہرے میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سمیت سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی اور اس موقع پر امریکہ اور حکومت مخالف اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ تمام مطاہرین نے قیدی نمبر650 کے بیج لگا رکھے تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی صحافی یوون ریڈلی نے کہا کہ افغانستان میں امریکی حراستی مرکز بگرام میں ایک مسلمان قیدی نمبر 650 قید ہیں جو ایک خاتون ہیں۔ جس کے ساتھ وہاں تعینات سکیورٹی اہلکار تشدد کرتے ہیں اور زیر حراست اس مسلمان خاتون کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی بھی ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حراستی مرکز سے فرار ہونے والے چند افراد نے انھیں بتایا ہے کہ قیدی نمبر650 کےساتھ چند اور مسلمان خواتین بھی قید میں ہیں۔ واضع رہے کہ یوون ریڈلی نے ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں پہلی بار انکشاف کیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکی قید میں ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اقدام قتل کے الزام میں امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا ۔ یوون ریڈلی نے مظاہرین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسلسل احتجاج سے ہی قیدی نمبر650 اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ | اسی بارے میں ’ کیا ہم غیر معینہ مدت تک انتظار کریں‘ 18 July, 2008 | پاکستان ’لاپتہ افراد، بازیابی کی کوشش نہیں‘ 13 July, 2008 | پاکستان کوئٹہ: گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ08 June, 2008 | پاکستان ایک سال میں 135 کو پھانسی28 May, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے کمیٹی کی تشکیل14 May, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد: آرمی چیف کو الٹی میٹم07 March, 2008 | پاکستان تاریخ: پاکستان میں سیاسی گمشدگیاں01 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||