BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 July, 2008, 00:26 GMT 05:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لاپتہ افراد، بازیابی کی کوشش نہیں‘

تنظیم کے مطابق موجودہ حکومت نے بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے
انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کی جلد بازیابی کے وعدے کے باوجود مزید چالیس افراد لاپتہ ہو گئے ہیں ۔

تنظیم نے سنیچر کے روز اسلام آباد کے آب پارہ چوک میں لاپتہ افراد کی فوری بازیابی اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی اور کے تحت حلف نے اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے لیے ایک روزہ احتجاجی کیمپ لگایاجس میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر تنظیم کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھی مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں چالیس کے قریب افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو بھی تین ماہ میں لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں علم نہیں ہے کیونکہ خفیہ ایجنسیوں نے اپنے طور پر کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو غائب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا قانون ہونا چاہیے کہ خفیہ ایجنسیوں کو جو افراد مطلوب ہوں تو وہ پارلیمنٹ کے نوٹس میں لاتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کارروائی کریں تاکہ سب کو علم ہو کہ ان لوگوں کو کس جرم کے تحت حراست میں لیا گیا ہے ۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ آج ہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے بھی احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے لاپتہ افراد کا نوٹس لیتے ہوئے ایک سو کے قریب لوگوں کو بازیاب کروایا تھا اور لاپتہ افراد کی برآمدگی کے مقدمہ کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے ۔

کچھ نوجوانوں نے گوانتانامو بے کا منظر پیش کیا

آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا کہ حکومت ابھی تک صرف چار افراد کی برآمدگی عمل میں لا سکی ہے ۔ تاہم انہیں بھی رہا کرنے کی بجائے مختلف مقدمات بنا کر جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے ۔

کیمپ میں موجود لاپتہ ہونے والے اکیس سالہ محمد علی کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا گزشتہ سال لال مسجد آپریشن کے بعد سے لاپتہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ محمد علی ایم ایس سی کا طالب علم تھا اور وہ گزشتہ سال تین جولائی کوگھر سے کتابیں لینے کے لیے نکلا تھا، بعد میں لال مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے چلا گیا اور اس کے بعد اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ غم سے نڈھال ستر سالہ مزمل شاہ نے بتایا کہ کم سے کم اتنا ہی بتا دیا جائے کہ ان کا بیٹا زندہ ہے ۔

پشاور سے آئی ہوئی مسز رتن نے بتایا کہ ان کا بتیس سالہ بیٹا جو کے ایم اے کا طالب علم تھا، پشاور سے چودہ ماہ سے لاپتہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بازیابی کے لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

کیمپ کے اختتام پر علامتی مظاہرہ بھی کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ان کے پاس پانچ سو ساٹھ افراد کی فہرست ہے جو کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے اب تک لاپتہ ہو چکے ہیں اور اس کے علاوہ سندھ اور بلوچستان میں ہزاروں افراد لاپتہ ہیں جن کے اہل خانہ کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ وہ ہماری تنظیم سے رابطہ کر سکیں ۔

احتجاجی مظاہرے میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے مقامی رہنماوں کے علاوہ سول سوسائیٹی کے چند اراکین نے شرکت۔

اس موقع پر چار نوجوانوں نے گوانتانامو جیل جیسا لباس اور کالے نقاب پہنا کر علامتی طور پر گوانتانامو جیل میں قید پاکستانی قیدیوں کا منظر پیش کیا ۔ جبکہ مظاہرین نے صدر مشرف کے خلاف جبکہ لاپتہ ہو جانے والے پیاروں کی بازیابی کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔

معافی کی پیشکش
صدرایجنسیوں کی تحویل میں افراد کو رہا کر دیں
لاپتہ افراد کے اہل خانہآرمی چیف کو مہلت
پندرہ مارچ تک لاپتہ افراد کو بازیاب کراؤ
آمنہ مسعود مزید گمشدگیاں
پاکستان میں لاپتہ افراد کی تعداد مزیدبڑھ گئی
حراست اور تشدد
پاکستان میں حراست اور تشدد کے 52 مراکز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد