پاکستان: حراست و تشدد کے مراکز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے پاکستان میں باون ایسے غیر قانونی مراکز کی نشاندہی کی ہے جہاں بقول اس کے شہریوں کو غیر قانوی طور پر طویل مدت تک رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا تاکہ انہیں دہشت گردی کے اقبالی بیانات پر مجبور کیا جا سکے۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ان مراکز کے بارے میں یہ معلومات ان افراد سے حاصل کی گئی ہیں جو کئی سال سے وہاں قید تھے۔ تنظیم کے مطابق اب صحافی، حقوق انسانی کی تنظیم اور ان لاپتہ افراد کے خاندان والے مل کر ان مقامات کا پتہ لگانے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر افراد جب رہا کیے جاتے ہیں تو انہیں کسی سڑک کے کنارے چھوڑ دیا جاتا ہے اور کچھ کو تو اعلی عدالتی مداخلت خاص طور پر معزول چیف جسٹس چوہدری افتخار کی مداخلت پر رہا کیا گیا ۔ متعدد لاپتہ افراد نے میڈیا اور عدالت کے سامنے پیش ہو کر یہ بیان دیا کہ انہیں فوجیوں نے حراست میں رکھا اور ان پر تشدد کیا۔ پاکستان میں ملٹری انٹیلیجنس، آئی ایس آئی، ایف ائی اے، پاکستان رینجرز اور فرنٹیر کانسٹیبلری اہم ایجنسیاں ہیں اور ان اداروں پر الزام ہے کہ یہ لوگوں کو غیر قانونی قید میں رکھتے ہیں اور ان سے یہ اقبالی بیان لینے کے لیے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صوبہ سرحد سے گرفتار ہونے والے افراد کو افغانستان منتقل کرنے سے پہلے فوج کی حراست میں دیا گیا جہاں تشدد کے بعد انہیں افغانستان میں قابض افواج کے حوالے کیا گیا تاکہ ان کو امریکہ کے بدنام زمانہ حراستی سینٹر گوانتانامو بے منتقل کیا جائے۔
تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی افواج اس سلسلے میں تمام فائدے اُٹھاتی رہی ہیں اس لیے یورپی ملکوں نے لاپتہ ہونے والے افراد کے مسئلے پر پاکستانی حکومت کو کبھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ نئی حکومت نے بھی ایسے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اب تک کوئی پیش رفت نہیں کی۔ تنظیم کے مطابق حکومت بالکل لا تعلقی ظاہر کر رہی ہے۔ جبکہ بازیاب افراد عدالت کہ سامنے یہ بیان دے چکے ہیں کہ انہیں فوجی کیمپوں میں رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ سنہ دو ہزار ایک سے ہزاروں افراد لاپتہ ہیں اور حکومت کے غیر سنجیدہ رویے سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے جنہوں نے ملک میں تبدیلی لانے کے لیے اٹھارہ فروری سنہ دو ہزار آٹھ کو ہونے والے انتخابات میں موجودہ حکمرانوں کو کامیاب کرایا تھا۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے بین الاقوامی برادری خاص طور پر یو این، انسانی حقوق کونسل اور کئی دوسری غیر ملکی تنظیموں سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان میں لاپتہ افراد کے سلسلے میں مداخلت کریں جو ابھی تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قید میں ہیں۔ تنظیم کے مطابق اسلام آباد ہی کے سیکٹر آئی نائین میں ایسے دو سیف ہاؤسز ہیں جن میں ایک آئی ایس آئی کا ہے‘۔ سندھ کے شہر کراچی میں خفیہ اداروں کے تین حراستی مراکز قائم ہیں۔ ان شاہراہِ فیصل، صدر اور ایک فائیو سٹار ہوٹل کے قریب جبکہ تیسرا ملیر کنٹونمنٹ کے علاقے میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان رینجرز نے بھی لانڈھی میں ایک حراستی مرکز قائم کر رکھا ہے۔ بلوچستان میں درجنوں حراستی مراکز ہیں جہاں لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد حراست میں رکھا جاتا ہے اور ان سے یہ اقبالی بیان لینے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ صوبے میں فوج کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ چھاؤنی کا علاقہ بالمقابل کوہِ مراد، خزدر کی چھاؤنی کا علاقہ، تربت ٹاؤن میں موجود ایک قلعہ جس میں اب بھی درجنوں افراد زیرِ حراست ہیں۔ جنوبی بلوچستان کے کئی مقامات میں حراستی مراکز موجود ہیں جن میں سبی، ڈیرہ بگتی اور کوہلو شامل ہیں اوران مراکز میں زیرِ حراست افراد میں زیادہ تر مقامی ہیں۔ پنجاب کی چھاؤنیوں میں دو حراستی مراکز ہیں جو خاص طور پر لاپتہ افراد کو حراست میں رکھنے اور ان پر تشدد کرنے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہ مراکز ملتان اور راولپنڈی چھاؤنی میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ راولپنڈی میں واقع حراستی مرکز سب سے زیادہ سخت ہے ۔ مزید برآں کچھ حراستی مراکز رولپنڈی کے ہسپتالوں میں بتائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان کے اضلاع میں بھی یہ حراستی مراکز موجود ہیں جن کا پتہ اس وقت چلا جب دو ہزار چار میں بلوچستان کی بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے تیرہ طالب علموں کو ان مراکز سے بازیاب کیا گیا۔ ’سرحد کی چھاؤنی میں اڑتالیس اور چراٹ میں بھی کئی غیر قانونی حراستی مراکز موجود ہیں‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب جب کہ ان غیرقانونی حراستی اور تشدد کے مراکز کے بارے میں پتہ چل چکا ہے تو حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں کہ وہ اس معاملے کو نظر انداز کرے۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے بین الاقوامی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور کئی دوسری غیر ملکی تنظیموں سے کہاہے کہ وہ پاکستان میں لاپتہ افراد کے کیس اور ان مراکز کی پاکستان میں موجودگی کی تحقیقات کروائیں۔ واضح رہے کہ داخلہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ حکومت لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے قوم جلد خوشخبری سنے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہوں سے لاپتہ افراد کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔پاکستان ’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔پاکستان لاپتہ افراد کے لواحقینپاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||