لاپتہ طالبعلم ،رشتہ دار سراپا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات ماہ سے لاپتہ بلوچستان کے علاقے نوشکی کے رہائشی نوجوان طالبعلم ثناء اللہ یلانزئی بلوچ کے رشتہ داروں نے الزام لگایا ہے کہ وہ خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ثناء بلوچ کے ایک کزن علی دوست بلوچ نےبی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں خفیہ اداروں خصوصا ملٹری انٹیلجنس کےاہلکاروں نے فون پر بتایا ہے کہ ’ثناء بلوچ ان کے پاس ہیں لہذا انہیں تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ علی دوست کےمطابق انہوں نے متعلقہ موبائل کمپنی کےدفتر سے ان خفیہ اہلکاروں کے موبائل نمبرز کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی مگر انہیں وہاں سے بتایا گیا کہ وہ نمبرز ایم آئی کے اہلکاروں کے زیر استعمال ہیں اور موبائل کمپنی ان کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کرنے کی پابند نہیں۔ ثناء اللہ بلوچ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ نوشکی ڈگری کالج میں گریجویشن کے طالبعلم ہیں اور ماضی میں وہ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے سرگرم رکن رہ چکے ہیں ۔ثناء اللہ نے عملی سیاست سےکنارہ کشی کے بعد غیر سرکاری تنظیموں یا این جی اوز میں کام کرنےکی کوشش بھی اور کھاران میں این جی اوز کے ضلعی کو آرڈینیٹر بھی رہے۔ علی دوست کا کہنا ہے کہ ثناء کی پراسرار گمشدگی کے بعد ان کی والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی، وہ اکثر اوقات بیہوش رہتی ہیں اور جب بھی انہیں ہوش آتا ہے تو وہ آنسو بھری آواز میں پوچھتی رہتی ہیں کہ’ثناء کہاں ہے۔مجھے ثناء بازیاب کروا کے دو‘۔ لاپتہ ثناء کی بازیابی کے لیے ان کےرفقاء اور رشتہ داروں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک بھوک ہڑتالی کیمپ بھی قائم کیا ہے۔ علی دوست کےمطابق وہ گزشتہ پندرہ دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں مگر کسی حکومتی اہلکار یا وزیر مشیر نے انہیں ثناء کی بازیابی کی یقین دہانی نہیں کروائی ۔
علی دوست کے مطابق انہوں نے ثناء کی بازیابی کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی ہے مگر وہاں سےبھی ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ علی دوست کا کہنا ہے کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ ان کے کزن کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی سے نہیں ہے مگر پھر بھی اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان صرف انہیں ثناء کا جرم بتا دے کہ انہوں نے ایسا کیا جرم کیا ہے جو وہ سات ماہ سے لاپتہ ہیں۔ |
اسی بارے میں لاپتہ افراد: آرمی چیف کو الٹی میٹم07 March, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے کمیٹی کی تشکیل14 May, 2008 | پاکستان 2007 ملکی تاریخ کا بدترین سال14 April, 2008 | پاکستان ’وہ بیٹا نہیں ہے میرا بلکہ ہیرا ہے‘28 March, 2008 | پاکستان پاکستان میں لاپتہ افرادمزید بڑھ گئے23 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||