رضا ہمدانی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | نئی حکومت کے سو دن گزرنے کے باوجود ان کو کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے |
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت بنے تین ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں تاہم لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاملہ تاحال حل طلب ہے اور ان افراد کے لواحقین کی موجودہ حکومت سے بندھی امیدیں بھی اب دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم تنظیم ڈیفنس آف ہیومین رائٹس کی رہنما آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں حکامِ بالا نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لاپتہ افراد جن میں ان کے شوہر بھی شامل ہیں، جلد بازیاب کرایا جائے گا۔ ’ان سب کا کہنا تھا کہ جلد ہی آپ کو اچھی خبر ملے گی لیکن اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ حکومت نے پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ اس کمیٹی میں کون کون ہے اور اس کی ڈیڈ لائن کیا ہے۔ کیا ہم غیر معینہ مدت تک انتظار کرتے رہیں‘۔  | سست رفتار  ریڈ کراس کے اہلکاروں سے ملاقات میں مجھے بتایا گیا کہ یہ تنظیم حکام سے چھ ماہ میں ایک مرتبہ ملتے ہیں اور لاپتہ افراد کے ایشو پر بات کرتے ہیں۔ یہ تو بہت سست طریقہ ہے ان کو تو چاہیے کہ ایک ماہ کیا ہر روز ملیں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں۔  آمنہ مسعود جنجوعہ |
آمنہ مسعود جنجوعہ نے عالمی اداروں کے حوالے سے کہا کہ ان کے تمام بڑے بڑے عالمی اداروں کے ساتھ رابطے ہیں جن میں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور آئی سی آر سی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر لاپتہ افراد کے خاندان والوں نے اپنے لاپتہ افراد کو آئی سی آر سی کے طریقہ کار کے مطابق اس تنظیم کے ساتھ رجسٹر کروایا ہوا ہے۔ ’ریڈ کراس کے اہلکاروں سے ملاقات میں مجھے بتایا گیا کہ یہ تنظیم حکام سے چھ ماہ میں ایک مرتبہ ملتے ہیں اور لاپتہ افراد کے ایشو پر بات کرتے ہیں۔ یہ تو بہت سست طریقہ ہے ان کو تو چاہیے کہ ایک ماہ کیا ہر روز ملیں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کی طرف سے کوئی بھی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ’اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے حکومت پر ٹھیک طرح دباؤ نہیں ڈالا۔’ انہوں نے کہا کہ ان کی آئی سی آر سی کے حکام کے ساتھ چار مرتبہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور وہ ان کے کام سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ اس تنظیم کو دنیا بھر میں جیلوں میں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلقہ زیر حراست افراد کو ملنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ’اگر یہ تنظیم کوئی نتیجہ خیز کام نہیں کرسکتی تو پھر اس کا وجود ہی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بڑے بڑے دفتر رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس تنظیم کو خطیر رقم اسی لیے ملتی ہے کہ وہ زیر حراست افراد تک رسائی حاصل کریں‘۔  | رسائی ہے  آئی سی آر سی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے زیر حراست لیے گئے افراد تک رسائی حاصل ہے اور اس معاملے پر ان کی حکومت کے افسران کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی ہیں۔  ریڈ کراس کے سربراہ پاسکل کیوٹن |
آئی سی آر سی کے پاکستان میں سربراہ پاسکل کیوٹن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ افراد جن کے پیارے لاپتہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پیارے جلد سے جلد بازیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی آر سی کا حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی جیلوں کا دورہ کرتے ہیں اور یہ اجازت پچھلے سال ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی آر سی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے زیر حراست لیے گئے افراد تک رسائی حاصل ہے اور اس معاملے پر ان کی حکومت کے افسران کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ان ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے پچھلے سال اپنی ایک رپورٹ میں عالمی برادری پر تنقید کی تھی کہ تشدد اور جنگوں کے باعث لاپتہ ہوجانے والے افراد کی تلاش کے لیے اقوامِ عالم زیادہ کوشش نہیں کر رہی ہیں۔ اس رپورٹ میں عالمی کمیٹی نے’مخفی المیے‘ کو اجاگر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ عام شہریوں کو حراست میں لینے والے لواحقین کو یہ اطلاع فراہم کریں کہ لاپتہ افراد کس حال میں ہیں اور کہاں ہیں۔ |