BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2008, 18:47 GMT 23:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بریفنگ، اجلاس پیر تک ملتوی

 پارلیمنٹ
امکان ہے کہ صدر آصف علی زرداریمیاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق متفقہ پالیسی بنانے کے لیے پارلیمان سے متفقہ قرار داد منظور کرانے پر بات کریں گے

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے پارلیمان کا بند کمرے میں ہونے والا اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

فوج اور حکومت کی جانب سے دی گئی بریفنگ کی روشنی میں پارلیمان نے جمعرات سے چار روزہ بحث کا آغاز کیا ہے اور امکان ہے کہ منگل کو یہ بحث ختم ہوگی۔

جمعرات کو بحث کا آغاز قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کیا اور حکومت اور باالخصوص شیری رحمان پر کڑی نکتہ چینی کی اور حکومتی پالیسی کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور حقائق چھپائے جا رہے۔

ان کے جواب میں سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے چوہدری نثار علی خان کے اٹھائے گئے نکات کا تفصیل سے جواب دیا اور ان کے تمام خدشات اور الزامات کو مسترد کردیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ یہ حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اہم قومی اور حساس مسئلے پر پارلیمان کو اعتماد میں لے رہی ہے۔

بحث کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں مدارس کا شدت پسندی کو بڑھانے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ بلکہ ان کے مطابق یہ دینی تعلیم کے مراکز ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مسائل بات چیت سے حل کریں اور طالبان سے مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے حکومت اور طالبان میں بات چیت کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

جمعہ کو پارلیمان کے اجلاس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے اکثر ان ہی خطوط پر بات کی جس پر ان کے مرکزی رہنما ؤں نے اپنی تقریروں میں تمہید باندھی تھی۔

 حکومت نے میاں نواز شریف، محمود خان اچکزئی، قاضی حسین احمد اور عمران خان سمیت کئی ایسے رہنماؤں کو جو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے رکن نہیں تھے، بریفنگ میں شرکت کی خصوصی دعوت دی لیکن ماسوائے میاں نواز شریف کے کوئی اور شریک نہیں ہوا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پارلیمان کو اعتماد میں لینے کے سب سے زیادہ زور شور سے مطالبات مسلم لیگ (ن) کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کر رہی تھیں۔

لیکن جب حکومت نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا تو سب سے پہلے تنقید بھی قاضی حسین احمد اور عمران خان کی سامنے آئی کہ پارلیمان کی بریفنگ فضول عمل ہے اور بریفنگ دینے والوں سے وہ (قاضی) زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔

حکومت نے میاں نواز شریف، محمود خان اچکزئی، قاضی حسین احمد اور عمران خان سمیت کئی ایسے رہنماؤں کو جو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے رکن نہیں تھے، بریفنگ میں شرکت کی خصوصی دعوت دی لیکن ماسوائے میاں نواز شریف کے کوئی اور شریک نہیں ہوا۔

عمران خان آسٹریلیا روانہ ہوگئے اور جماعت اسلامی نے پشاور سے کراچی تک ٹرین مارچ شروع کر دیا جس پر جماعت اسلامی کی قیادت پر حکومتی اتحاد کی جماعتوں کی طرف سے یہ تقنید بھی ہوئی کہ انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے نو سال میں کبھی ٹرین مارچ نہیں کیا لیکن موجودہ حکومت کو نو ماہ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

قاضی حسین احمد سے منسوب مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ہوگئی ہے اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔ جماعت اسلامی پر ماضی میں الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمینٹ کی خواہشات کے مطابق جمہوری حکومتوں کو گرانے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کے رہنما ایسے الزامات اور تاثر کو رد کرتے ہیں۔

 پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے بارے میں بریفنگ کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کچھ اراکین نے بھی جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ جس پر حکومت نے میاں نواز شریف سے درخواست کی کہ وہ مداخلت کریں اور اس انتہائی حساس قومی معاملے پر نمبر بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔
آٹھ اکتوبر کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا جو اب آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں، انہوں نے جب بریفنگ دی تو اس میں جماعت اسلامی کے سینیٹرز بھی شریک ہوئے۔ لیکن جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل منور حسن نے ایک اردو اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ حکومت نے ایک فوجی افسر سے پارلیمان کو بریفنگ دلوا کر پارلیمان کو فوج کے ماتحت کر دیا ہے۔

پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے بارے میں بریفنگ کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کچھ اراکین نے بھی جارحانہ رویہ اختیار کیا جس پر حکومت نے میاں نواز شریف سے درخواست کی کہ وہ مداخلت کریں اور اس انتہائی حساس قومی معاملے پر نمبر بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ حکومت کی درخواست پر میاں نواز شریف جو خود دو بار اس ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں انہیں اس طرح کے معاملات کا بخوبی ادراک ہے، انہوں نے اپنی جماعت کو واضح ہدایات دیں کہ وہ مثبت کردار ادا کریں۔

بدھ کو جب پارلیمان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے بارے میں فوج اور حکومت کی بریفنگ پر بحث شروع ہوئی تھی تو حکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں کے چار سو چالیس اراکین میں سے ایک سو سے بھی کم ممبر اجلاس میں شریک ہوئے۔ جس سے حکومت اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

امکان ہے کہ صدر آصف علی زرداری آئندہ دو تین روز میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق متفقہ پالیسی بنانے کے لیے پارلیمان سے متفقہ قرار داد منظور کرانے پر بات کریں گے۔

اسی بارے میں
’تصویر کادوسرا رخ ‘
11 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد