BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 October, 2008, 06:55 GMT 11:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تصویر کادوسرا رخ ‘

طالبان
طالبان کا موقف سننا تو شاید مشکل نہ ہو لیکن کیا انہیں اپنی مسلح مزاحمت ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوئی گنجائش ہوگی یا نہیں
صوبہ سرحد میں سوات کے طالبان کی جانب سے پارلیمان کو ’تصویر کا دوسرا رخ‘ دکھانے کی پیشکش کو حکومت نے تو بظاہر غیرسنجیدہ سمجھتے ہوئے اس کا جواب دینے کے بھی لائق نہیں قرار دیا لیکن ایوان کے اندر موجود مذہبی جماعتوں کے اراکین اس کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔

سوات میں عسکریت پسندوں کے ترجمان مسلم خان نے گزشتہ روز پارلیمان کو فوجی اہلکاروں کی بریفنگ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اگر اراکین پارلیمان تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی بریفنگ کا موقع دینا چاہیے۔

اس پیشکش پر باضابطہ حکومتی موقف تو سامنے نہیں آیا ہے۔ حکومتی ترجمان شیری رحمان سے رابطے کی تمام دن کوششوں کے باوجود بات نہیں ہوسکی۔ تاہم ان کی مصروفیت کے اندیشے کے پیش نظر اس بابت ایک سوال انہیں موبائل پیغام کے ذریعے بھی ارسال کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

حرج کیا ہے
 اگر امریکہ، نیٹو، برطانیہ، فرانس اور اقوام متحدہ افغانستان میں مذاکرات کرنے کو ضروری قرار دے سکتے ہیں تو پاکستان میں طالبان کی بات سننے میں کیا حرج ہے۔وہ آیا پارلیمان کے سامنے آکر بریفنگ دیں یا کوئی اور راستہ اختیار کریں اس کے بارے میں بات ہوسکتی ہے لیکن ان کا موقف ضرور سامنے آنا چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے۔
پروفیسر خورشید
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید حکومت شدت پسندوں کے اس مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اسی لیے اس کا جواب دینا بھی پسند نہیں کیا۔ تاہم دوسری جانب پارلیمان کے اندر مذہبی جماعتوں کے اراکین نے اس پیشکش کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی ہے۔

ایوان بالا یعنی سینٹ میں جماعت اسلامی کے رکن پروفیسر خورشید احمد اسے طالبان کا جائز مطالبہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ، نیٹو، برطانیہ، فرانس اور اقوام متحدہ افغانستان میں مذاکرات کرنے کو ضروری قرار دے سکتے ہیں تو پاکستان میں ان کی بات سننے میں کیا مضائقہ ہے۔

’وہ آیا پارلیمان کے سامنے آکر بریفنگ دیں یا کوئی اور راستہ اختیار کریں اس کے بارے میں بات ہوسکتی ہے لیکن ان کا موقف ضرور سامنے آنا چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے۔‘

سوات کے شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ بریفنگ ٹیلیفون یا پارلیمان میں اپنے ہم خیال اراکین کے ذریعے دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ ہم خیال اراکین کون ہیں اس بارے میں ہر کوئی شاید واضع طور پر کچھ کہنے سے کتراتا ہے۔

جعمیت علماء اسلام کے قبائلی علاقے باجوڑ سے ایوان بالا کے رکن سینٹر عبدالرشید سے دریافت کیا کہ آیا وہ یا ان کی جماعت طالبان کی جگہ ایوان کے اندر یہ بریفنگ دے سکتے ہیں تو ان کا گول مول سا جواب تھا کہ شدت پسندوں اور سیاستدانوں کی لائن الگ الگ ہیں۔

’ہرسیاسی جماعت کا اپنا موقف ہے۔ ہماری جماعت پارلمینٹ میں کہہ چکی ہے کہ اس وقت ملک میں جو جنگی صورتحال ہے اس کے حل کے لیے قومی پالیسی تشکیل دیں جو یکطرفہ نہ ہو۔‘

شدت پسندوں کی حمایت
 مبصرین کے خیال میں موجودہ اسمبلی میں کئی اراکین اسمبلی ایسے ہیں جن کو بعض شدت پسند تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ کئی ایسے ہیں جو اکثر شدت پسندوں سے رابطوں میں رہتے ہیں۔ ماضی میں کئی مرتبہ حکومت نے شدت پسندوں سے رابطوں کی خاطر ان کی خدمات حاصل کی ہیں
ماضی میں لال مسجد کے موقع پر دیکھا گیا کہ بعض اراکین اسمبلی نے اس وقت مسجد کے اندر محصور غازی عبدالرشید اور ان کے ساتھیوں کی جگہ حکومت سے مذاکرات کیئے۔ لیکن اس وقت ملک میں شدت پسندوں کے خلاف ایک فضا جو بنی ہے اس میں شاید کوئی بھی رکن پارلیمان یہ ذمہ داری عوامی سطح پر ادا کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا ہے۔

جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید کہتے ہیں کہ اگر پارلیمان میں ایسے اراکین موجود ہیں تو اس سے بہتر صورت کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ طالبان کا مؤقف ایوان کے سامنے رکھیں۔ جب ان سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ایسے اراکین کون سے ہوسکتے ہیں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ تو طالبان کو بتانا چاہیے کہ وہ کون ہیں۔ ’ہم ان کو سننے کے لیے تیار ہیں۔‘

مبصرین کے خیال میں موجودہ اسمبلی میں کئی اراکین اسمبلی ایسے ہیں جن کو بعض شدت پسند تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ کئی ایسے ہیں جو اکثر شدت پسندوں سے رابطوں میں رہتے ہیں۔ ماضی میں کئی مرتبہ حکومت نے شدت پسندوں سے رابطوں کی خاطر ان کی خدمات حاصل کی ہیں۔

شورش زدہ سوات میں تو فروری کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی نے اکثر نشستیں حاصل کی تھیں جو آج کل شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ ان کا طالبان کا موقف پیش کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، تاہم قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے اکثر اراکین مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں اکثریت جعمیت علمائے اسلام کے اراکین کی ہے جن کی جماعت کی ’ہر ایک کو خوش رکھنے کی پالیسی‘ یہاں بھی کام آ سکتی ہے۔

اب تاہم حیرت کی بات ہے کہ اب تک کے دو اجلاسوں میں ان یا کسی اور رکن کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے کہ طالبان کا موقف بھی سنا جائے یا اسے جگہ دی جائے۔ تاہم پروفیسر خورشید جیسے اراکین پرامید ہیں کہ آئندہ کے اجلاس میں شاید یہ بات ضرور اٹھائی جائے گی۔

کون مانے گا
 شورش زدہ سوات میں تو فروری کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی نے اکثر نشستیں حاصل کی تھیں جو آج کل شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ ان کا طالبان کا موقف پیش کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، تاہم قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے اکثر اراکین مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں اکثریت جعمیت علمائے اسلام کے اراکین کی ہے جن کی جماعت کی ’ہر ایک کو خوش رکھنے کی پالیسی‘ یہاں بھی کام آ سکتی ہے
مسلم لیگ (ن) نے بھی اس جانب ابھی کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ البتہ اسحق ڈار ایک بیان میں وآضع کر چکے ہیں کہ نواز شریف کا نہ تو طالبان سے کوئی رابطہ ہے اور نہ مذاکرات میں کوئی کردار۔

ماضی میں طالبان کے قریب سمجھے جانے والے مدرسہ حقانیہ کے مہتمم اور سینٹر سمیع الحق نے بھی حالیہ دنوں میں بگڑتی ملکی صورتحال پر بظاہر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ مشیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس میں گزشتہ دنوں انہوں نے یہ کہتے ہوئے خودکش حملوں کے خلاف فتوی دینے سے انکار کر دیا کہ اس طرح کا فتوی امریکی صدر بش کو بھی دینا ہوگا تبھی بات بن پائے گی۔

بعض لوگوں کے خیال میں طالبان کا موقف سنا تو شاید کوئی زیادہ مشکل نہ ہو لیکن کیا انہیں اپنی مسلح مزاحمت ختم کرنے پر اس اجلاس میں قائل کرنے کی کوئی گنجائش ہوگی یا نہیں اصل بات یہ ہوگی۔ صرف ایک دوسرے پر الزامات کا ہی تبادلہ کرنا ہے تو اس سے مسئلے کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ عسکریت پسندوں ک ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا امکان تو کم ہی ہے، لیکن ان کی بات سننے سے کم از کم مستقبل میں کسی کو یہ شکایت نہیں رہے گی کہ ان کی بات سنی نہیں گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد