BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 October, 2008, 06:08 GMT 11:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اورکزئی جرگہ حملہ، ہلاکتیں اکیاون

قبائلی لشکر(فائل فوٹو)
طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے قبائلی علاقوں میں مسلح لشکر بنائے گئے
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو قبائلی جرگے پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکیاون ہوگئی ہے جبکہ ایک سو تیس افراد زخمی ہیں۔

اورکزئی ایجنسی کی پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مختلف ذرائع سے جمع کیےگئے اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں اب تک اکیاون افراد کی ہلاکت اور ایک سو تیس کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

ان کے بقول مرنے والوں میں بعض سرکردہ قبائلی شخصیات بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف سنیچر کی شام اپر اورکزئی ایجنسی کے مختلف علاقوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی نمازہ جنازہ پڑھائی گئی اور انہیں آبائی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ خانکئی، زرگرئی اور تیراہ علی خیل کے علاقے میں ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں پر دس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان کے بقول ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے تین تین افراد بھی شامل ہیں۔

ایک اور نوجوان اعظم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ آج علاقے میں فضاء بہت سوگوار تھی، بازار، سکول، کالج اور سرکاری دفاتر بند تھے۔ان کے بقول زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ ’وہ انتقام کے طور پر یہاں سے مبینہ عسکریت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کا صفایا کریں گے‘۔

یاد رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں تحصیل غلجو سے تقریباً دس کلومیٹر دور حدیزئی کے مقام پر علی خیل قبیلے کی ذیلی شاخ خانکی کے قبائلی مشران جرگے میں بارود سے بھری ایک گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی تھی۔

جرگے میں شرکت کے لیے آئے ایک قبائلی بزرگ قیمت خان اورکزئی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ’ہم اس وقت طالبان کو علاقے سے نکالنے کے لیے ایک لشکر تیار کر رہے تھے کہ عین اس وقت حملہ ہو گیا‘۔

 اورکزئی پاکستان کے سات نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ پر امن علاقہ سمجھا جاتا ہے اور دوسرے علاقوں کے برعکس اس کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی قبائلی جرگہ پر خود کش حملے کیا گیا ہو۔ اس سے قبل دو مارچ کو بھی درہ آدم خیل میں بھی ایک جرگے پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی آبادی کی جانب سے حال ہی میں طالبان کے خلاف دوبارہ مسلح لشکر تشکیل دے کر کارروائیاں شروع کی گئی ہیں اور باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ایسے ہی ایک لشکر کی کارروائیوں کے دوران طالبان کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ چار دن قبل طالبان اور علی خیل قبیلے کے درمیان بھی ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں طالبان نے علاقہ چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اورکزئی پاکستان کے سات نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ پر امن علاقہ سمجھا جاتا ہے اور دوسرے علاقوں کے برعکس اس کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی ہے۔

قبائلیوں کی جانب سے مسلح لشکر کی تشکیل اور ان کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں اور جنوبی اور شمالی وزیرستان میں بھی لشکر نے ماضی میں مقامی طالبان سے تعلق یا غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں سینکڑوں گھر جلا دیے تھے لیکن ان واقعات کے کچھ عرصہ بعد لشکر میں حصہ لینے والے اکثر قبائلی عمائدین قتل کر دیے گئے۔

اسی بارے میں
میریئٹ حملے میں 54 ہلاک
09 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد