BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 October, 2008, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ لشکر: مزید گھرنذرِ آتش

باجوڑ
قومی لشکر نے مقامی کمانڈر سمیت کئی دوسرے جنگجوؤں کے گھروں کو نذر آتش کیا
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں طالبان شدد پسندوں کے خلاف قبائلی لشکر کی کارروائی دوسرے روز بھی جاری رہی اور مزید گھروں کو جلادیاگیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی طالبان اور قبائلی لشکر کے درمیان تصادم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

باجوڑ ایجنسی کی مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحصیل وڑہ ماموند کے علاقے میں مقامی طالبان کے خلاف قومی لشکر کی کارروائی بدستور جاری ہے۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلح مقامی قبائل حصہ لے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق پیر کو لشکر نے ایک مقامی کمانڈر جان والی عرف شینہ سمیت کئی دوسرے شدت پسندوں کے گھروں کو نذر آتش کیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق پیر کو باجوڑ قومی لشکر کے مسلح رضاکار تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر اور باجوڑ ایجنسی کے امیر فقیر محمد کے گھر تک پہنچ گئے تھے۔ لیکن وہاں کچھ مقامی طالبان کی شدت پسندوں سے بات چیت کے بعد مقامی طالبان علاقے سے چلے گئے۔ لشکر کیساتھ تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق آئندہ بھی طالبان شدت پسندوں اور لشکر کے درمیان تصادم کا کسی قسم کا خطرہ موجود نہیں ہے۔

 قومی لشکر کے مسلح رضاکار تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر اور باجوڑ ایجنسی کے امیر فقیر محمد کے گھر تک پہنچ گئے تھے۔ لیکن وہاں کچھ مقامی طالبان کے شدت پسندوں سے بات چیت کے بعد مقامی طالبان علاقے سے چلے گئے۔
مقامی لوگ

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گھر جلانے پر قبائلی لشکر اور مقامی طالبان کے درمیان کچھ خفیہ فیصلے موجود ہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے علاوہ ایک افغان طالبان کمانڈر قاری ضیاءالرحمن کا بھی ایک گروپ علاقے میں سرگرم ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ضیاءالرحمن گروپ میں ایک ہزار سے زیادہ افغان شدت پسند شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان اور افغان طالبان کے درمیان اس بات پر کچھ اختلافات سامنے آئے تھے کہ قومی لشکر کے سامنے علاقہ نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن مقامی طالبان نے افغان طالبان کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ قومی لشکر کساتھ تصادم کرنا نہیں چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ جنوبی شمالی وزیرستان میں بھی مقامی طالبان قومی لشکر کے سامنے کچھ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ جب کوئی مقامی طالبان کمانڈر کے گھر کو جلادیا جاتا تھا تو پہلے سے ان کو معلوم ہوتا تھا۔ اکثر اوقات دو دن پہلے وہ اپنے گھروں کو خالی کردیتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد