BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 September, 2008, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ جھڑپ میں تیرہ افراد ہلاک

باجوڑ ایجنسی
سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو شانہ بنایا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مسلح قبائلی لشکر اور طالبان کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں تیرہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں قبائلی لشکر کے نو مسلح رضاکار اور چار طالبان بتائے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے پیر کو باجوڑ کے مختلف علاقوں میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں مقامی حکام نے آٹھ طالبان کے مارے جانے کا دعوی کیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کو سالار زئی قبیلے کا مسلح لشکر طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے جب درہ ملاسید کے علاقے میں داخل ہوا تو مسلح طالبان نے اس پر حملہ کر دیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیا ن ہونے والی جھڑپ میں قبائلی لشکر کے نو اور طالبان کے چار ساتھی مارے گئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے پیر کو بھی گن شپ ہیلی کاپٹروں، لڑاکا طیاروں اور بھاری توپخانے سے طالبان کے متعدد مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔مقامی حکام کے مطابق ان حملوں میں آٹھ طالبان مارے گئے ہیں تاہم طالبان اور نہ ہی آزاد ذرائع نے اسکی تصدیق کی ہے۔

اشفاق پرویز کیانی
جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اتوار کوباجوڑ ایجنسی کا دورہ کیا تھا

اسی طرح درہ آدم خیل میں بھی سکیورٹی آپریشن کی اطلاعات ہیں اور سکیورٹی فورسز نے تورا چنا کے علاقے میں 12 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں سات اگست کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلح طالبان کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی کے بعد سالارزئی وہ واحد قبیلہ ہے جس نے اپنے علاقے سے طالبان کو بیدخل کرنے کے لیے ایک مسلح لشکر تشکیل دیا تھا۔انہوں نے تحصیل سالارزئی میں واقع طالبان کے بعض مشتبہ ٹھکانوں کو نذرِ آتش کیا تھا۔طالبان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سالارزئی قبیلے کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی۔

چند روز قبل بھی ایک گاڑی پر جس میں سالارزئی قبیلے کے افراد سوارتھے مبینہ ریموٹ کنٹرول بم حملہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اتوار کوفوجی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ باجوڑ ایجنسی کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے متعدد قبیلوں کے مشران کے ساتھ ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ فوج قبائلی عمائدین کی مدد سے باجوڑ سے مبینہ طالبان کا بہت جلد خاتمہ کر کے وہاں پر حکومتی عملداری جلد بحال کردے گی۔ انہوں نے قبائلی مشران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ قبائل کی طرف سے مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں حکومت کا ساتھ دینے سے سکیورٹی فورسز کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

صحافیوں کو بریفنگ
پاکستان کو سورش کا سامنا: اعلیٰ حکام
وزیرستان’طالبان کے دیس میں‘
بیت اللہ سے ملاقات کے لیے صحافیوں کا سفر
طالبان سےمعاہدہ
پاکستان کی سرزمین سے طالبان کے حملے؟
وزیرستان آپریشن
’قبائلی علاقوں میں 400 ہلاک ہزاروں بےگھر‘
اسلحہ،نقاب پر پابندی
باجوڑ میں امن و امان کے لیے نئے اقدامات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد