باجوڑ جھڑپ میں تیرہ افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مسلح قبائلی لشکر اور طالبان کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں تیرہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں قبائلی لشکر کے نو مسلح رضاکار اور چار طالبان بتائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے پیر کو باجوڑ کے مختلف علاقوں میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں مقامی حکام نے آٹھ طالبان کے مارے جانے کا دعوی کیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کو سالار زئی قبیلے کا مسلح لشکر طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے جب درہ ملاسید کے علاقے میں داخل ہوا تو مسلح طالبان نے اس پر حملہ کر دیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیا ن ہونے والی جھڑپ میں قبائلی لشکر کے نو اور طالبان کے چار ساتھی مارے گئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے پیر کو بھی گن شپ ہیلی کاپٹروں، لڑاکا طیاروں اور بھاری توپخانے سے طالبان کے متعدد مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔مقامی حکام کے مطابق ان حملوں میں آٹھ طالبان مارے گئے ہیں تاہم طالبان اور نہ ہی آزاد ذرائع نے اسکی تصدیق کی ہے۔
اسی طرح درہ آدم خیل میں بھی سکیورٹی آپریشن کی اطلاعات ہیں اور سکیورٹی فورسز نے تورا چنا کے علاقے میں 12 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں سات اگست کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلح طالبان کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی کے بعد سالارزئی وہ واحد قبیلہ ہے جس نے اپنے علاقے سے طالبان کو بیدخل کرنے کے لیے ایک مسلح لشکر تشکیل دیا تھا۔انہوں نے تحصیل سالارزئی میں واقع طالبان کے بعض مشتبہ ٹھکانوں کو نذرِ آتش کیا تھا۔طالبان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سالارزئی قبیلے کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی۔ چند روز قبل بھی ایک گاڑی پر جس میں سالارزئی قبیلے کے افراد سوارتھے مبینہ ریموٹ کنٹرول بم حملہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے تھے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اتوار کوفوجی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ باجوڑ ایجنسی کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے متعدد قبیلوں کے مشران کے ساتھ ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ فوج قبائلی عمائدین کی مدد سے باجوڑ سے مبینہ طالبان کا بہت جلد خاتمہ کر کے وہاں پر حکومتی عملداری جلد بحال کردے گی۔ انہوں نے قبائلی مشران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ قبائل کی طرف سے مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں حکومت کا ساتھ دینے سے سکیورٹی فورسز کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’دوبارہ آپریشن کی وجہ حکومتی فیصلے‘29 September, 2008 | پاکستان کیانی باجوڑ میں، آپریشن پر بریفنگ28 September, 2008 | پاکستان باجوڑ میں پندرہ ’طالبان‘ ہلاک، سوات میں تشدد27 September, 2008 | پاکستان ’ایک ماہ میں سینکڑوں ہلاکتیں‘26 September, 2008 | پاکستان باجوڑ گولہ باری، ’آٹھ طالبان‘ہلاک25 September, 2008 | پاکستان باجوڑ: جھڑپوں میں 25 طالبان ہلاک24 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||