BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 September, 2008, 10:00 GMT 15:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ گولہ باری، ’آٹھ طالبان‘ہلاک

باجوڑ
گن شپ ہیلی کاپٹروں کی کارروائی سے مقامی طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ ہوئے
باجوڑ ایجنسی میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سکیورٹی فورسز نے لوئی سم، بھائی چینہ، گنگ، رشکئی اور آس پاس کے علاقوں میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپخانے سے فائرنگ کی ہے اور اس اس کارروائی میں کم از کم آٹھ طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم باجوڑ میں مقامی انتظامیہ نے جمعرات کو باجوڑ کی تحصیل سلارزئی کے علاقے گنگا میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی گولہ باری سے چار شدت پسندوں سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی کاروائی میں ان کا کوئی بھی ساتھی ہلاک نہیں ہوا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ میں تحصیل سالارزئی کے علاقے گنگ میں چار عام شہری ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

وانا میں بھی نامعلوم افراد نے سکیورٹی فورسز ایک چیک پوسٹ کو بارودی مواد سے اڑا دیا ہے لیکن اس حملے میں بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق باجوڑ کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی کارروائی کے نتیجہ میں مقامی طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے باجوڑ کے صدر مقام خار پر چار راکٹ فائر کیے ہیں لیکن اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان نے بدھ کو ہونے والی جھڑپوں میں سات سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ ان جھڑپوں میں پچیس شدت پسند بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

گولہ باری اور فائرنگ سے مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے(فائل فوٹو)

پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جمعرات کو چوتھے روز بھی لڑائی جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کی لڑائی میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ پچیس شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔ تاہم شدت پسندوں کی ہلاکت کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

میجر مراد کے مطابق نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں بھی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں سے کئی علاقوں کو خالی کروا لیا ہے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شدت پسندوں کے گھروں کی تلاشی میں مصروف ہیں اور تباہ شدہ رابطہ پلوں کی مرمت کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
31 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ طالبان کےگھر نذرآتش
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد