BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2008, 22:19 GMT 03:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: جھڑپوں میں 25 طالبان ہلاک

مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ بتائی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دو اہلکاروں، چھ شہریوں اور پچیس مسلح طالبان سمیت تنتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف حکام نے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں بدھ کو چھ مبینہ عسکریت پسندوں کے مارنے کے ساتھ ہی گزشتہ چند دنوں کے دوران ساٹھ مبینہ شدت پسندوں کے ہلاک جبکہ اکیاون کے زخمی ہونے کا دعوی کیا ہے۔

فرنٹیئر کور میڈیا سیل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ باجوڑ کے لوئی سم، رشکئی، کوثر، زور منڈل اور انزرئی کے مقام پر بدھ کو سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں دونوں طرف سے راکٹوں اور مارٹر گولوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں پچیس طالبان کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا گیا ہے تاہم بیان میں سکیورٹی فورسز کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے حکومتی دعوؤں کو رد کرتے ہوئے ان جھڑپوں میں چھ اہلکاروں کے ہلاک کرنے کا جوابی دعوی کیا ہے۔تاہم فریقین کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

باجوڑ ہی میں مقامی لوگوں کے مطابق بدھ کو تحصیل سالارزئی کے غاشی علاقے میں طالبان مخالف لشکر تشکیل دینے والے سالارزئی قبائل کی ایک گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب بم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان کے بقول اس حملے میں دو افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔باجوڑ میں سالارزئی وہ واحد علاقہ ہے جہاں پر قبائل نے طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیکر ان کے بعض مراکز اور گھروں کو نذرِ آتش کیا تھا جس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے طالبان نے جوابی حملے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم تازہ حملے کی ابھی تک طالبان یا کسی اور گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

باجوڑ کے ایک اور علاقے گنگ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک مکان پر توپ کا گولہ گرنے سے چار افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ بدھ کو سکیورٹی فورسز نے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں کاروائی کے دوران چھ مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

انہوں نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پیش قدمی کرتے ہوئے قاسم خیل، محمدی کلی اور کوہاٹ ٹنل سے گزرنے والے انڈس ہائی وے کے دونوں اطراف کو سپینہ تھانہ تک قبضہ کرلیا ہے۔ فرنٹیئر کور میڈیا سیل کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ درہ آدم میں گزشتہ چند دنوں کی کاروائیوں میں ساٹھ مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک جبکہ اکیاون کو زخمی کیا گیا ہے۔

طالبان نے اپنی ہلاکتوں کے حوالے سے حکومتی دعووں کو رد کردیا ہے جبکہ آزاد ذرائع نے بھی ان کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
31 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ طالبان کےگھر نذرآتش
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد