BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 September, 2008, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دوبارہ آپریشن کی وجہ حکومتی فیصلے‘

سوات
سوات میں دوبارہ لڑائی کی ضرورت اٹھارہ فروری کے بعد نئی حکومت کے چند فیصلوں کی وجہ سے پیش آئی
پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے دی جانے والی دس بلین ڈالر کی امداد میں سے فوج کو صرف پانچ سو ملین ڈالر دیے گئے ہیں جبکہ باقی امداد کہاں گئی اس بارے میں وزارت خزانہ سے سوال کیا جائے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ سوات میں گزشتہ برس نومبر میں کامیاب کارروائی کے بعد وہاں دوبارہ لڑائی کی ضرورت اٹھارہ فروری کے بعد نئی حکومت کے چند فیصلوں کی وجہ سے پیش آئی۔ ان میں کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا صوفی محمد کی رہائی، سوات کے شدت پسندوں سے مئی کا امن معاہدہ شامل ہیں اور بجلی اور گیس کی ترسیل کی بندش سے عوامی اعتماد کھونا شامل ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق مولانا صوفی محمد بے اثر جبکہ امن معاہدہ شدت پسندوں سے براہ راست کیا گیا جوکہ معاہدوں کے باوجود سکیورٹی فورسز پر ہمیشہ حملوں کی بات کرتے رہے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے اعتراف کیا کہ سوات میں گرڈ سٹیشن اور گیس تنصیبات کی حفاظت پولیس کے حوالے کرنا مناسب اقدام نہیں تھا جن کی تباہی سے عوام کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ فوج کو بھی یہ احساس ہے کہ یہ طویل جنگ صرف فوجی آپریشنوں کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے سیاسی اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے کوئی قومی کوشش اگر دکھائی نہیں دے رہی تو یہ سوال بھی سیاسی قیادت سے کیا جانا چاہیے۔

سیاسی قیادت سے پوچھیں
 فوج کو بھی یہ احساس ہے کہ یہ طویل جنگ صرف فوجی آپریشنوں کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے سیاسی اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے کوئی قومی کوشش اگر دکھائی نہیں دے رہی تو یہ سوال بھی سیاسی قیادت سے کیا جانا چاہیے۔
سکیورٹی ذرائع

سکیورٹی ذرائع نے سرحد پر نظر رکھنے والے پاکستان فوج کے ایک لاکھ ستر ہزار سپاہیوں کے پاس جدید آلات کی کمی کی بھی شکایت کی۔

اعلی سکیورٹی اہلکاروں نے بریفنگ میں بتایا کہ ضلع سوات میں کوزہ بانڈہ سمیت کئی دیگر علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے تاہم آئندہ چند روز ان علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد مٹہ اور پیوچار جیسے شدت پسندوں کے گڑھ کا رخ کیا جائے گا۔

پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور قبائلی علاقے باجوڑ میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیاں موسم سرما میں بھی جاری رہیں گی تاہم یہ کب مکمل ہوں گی اس بارے میں انہوں نے کوئی ٹائم فریم دینے سے گریز کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ برس نومبر سے لے کر آج تک سوات میں شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں اٹھانوے سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تقریبا ڈیڑھ سو زخمی ہوئے ہیں۔

اس وقت ملک میں دوسرے میدان جنگ یعنی باجوڑ میں فوجی کارروائیوں کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ اب تک ستر کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دو سو چالیس زخمی ہوئے تھے۔ تاہم سرکاری ذرائع نے شدت پسندوں کے ہونے والے جانی نقصانات کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ اعدادوشمار دینے سے گریز کیا تاہم ان کے بقول یہ تعداد چھ سو سے زائد ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ انہیں باجوڑ میں شدت پسندوں کے رہنما اور تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مولانا فقیر محمد کے بارے میں غیرمصدقہ اطلاع ہے کہ انہوں نے زخمی ہونے کے بعد مہمند ایجنسی میں پناہ لے لی ہے۔ اسی طرح کی ایک اطلاع افغان جنگجو قاری ضیاالرحمان کے متعلق بھی ہے جوکہ ایک ہزار شدت پسندوں کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی افغانستان منتقل ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی اہلکار امید کر رہے ہیں کہ اگر یہ شدت پسند علاقہ چھوڑ چکے ہیں تو ان کی کامیابی کے امکانات اس سے بڑھ جائیں گے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی اداروں نے پینتیس سے زائد اہم طالبان جنگجو گرفتار کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ ان میں جنوبی وزیرستان میں لدھا سے تعلق رکھنے والے محمد رومان، شیر شاہ، شیر زادہ، درہ آدم خیل سے اجمل خان، کوہاٹ سے شاہ زمان اور ذاکر شاہ کے علاوہ عبدالمالک عرف ملکئے شامل ہیں۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کارروائیاں اب سیاسی قیادت اور مقامی مشران کی حمایت سے ہو رہی ہیں۔ ’ان کی خواہش ہے کہ اس کارروائی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔‘

تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے واضع کیا کہ فوج کا ان علاقوں میں غیرمعینہ مدت تک رہنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ’سوات میں ہم گزشتہ برس نومبر میں دو ہفتوں کی کارروائی کے بعد نکل گئے تھے لیکن اس مرتبہ ایسی کوئی ڈیڈلائن نہیں دی جاسکتی ہے۔‘

ذرائع نے ایک علاقے کے شدت پسندوں سے خالی ہونے اور فوج کے انخلاء کے بعد وہاں سکیورٹی برقرار رکھنے کے کسی منصوبے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہرحال یہ ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے اور انہیں ہی یہ سنبھالنا ہوگی۔

امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کے بارے میں ذرائع کا کہنا تھا کہ معلومات کا تبادلہ تو ہو رہا ہے تاہم خفیہ معلومات شیئر نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کو کوئی رڈار نہیں دیکھ سکتا لہذا اسے روکنا ممکن نہیں۔

اسی بارے میں
سوات، کار بم حملے میں نو ہلاک
22 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد