مسلح طالبان‘ کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں شدت پسندی سے برسرِ پیکار بائیں بازو کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت نے سات اضلاع پر مشتمل مالاکنڈ ڈویژن میں پہلے سے نافذ شدہ نظام عدل ریگولیشن انیس سو ننانوے کے ترمیمی مسودے کو حتمی شکل دیکر بظاہرمسلح طالبان اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے دیرینہ مطالبے کو مان لیا ہے۔ اگرچہ مالاکنڈ ڈویژن میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کی جانب سے انیس سو چورانوے میں ہونے والی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہونے والی شرعی عدالتیں اب بھی قائم ہیں لیکن مذکورہ تنظیم اور مولانا فضل اللہ کی قیادت میں منحرف مسلح گروپ کو شکایت رہی ہے کہ یہ عدالتیں ’ شریعت‘ کے معیار پر پوری نہیں اتررہی ہیں لہذا اسے مزید بہتر بنانے کے لیےحکومت نظامِ عدل ریگولیشن میں اصلاحات کرے۔ وہ یہ مطالبہ گزشتہ کئی سالوں سے کررہے ہیں مگر دو ہزار دو میں شریعت کے نفاذ کے نام پر صوبہ سرحد میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی( ف) پر مشتمل ایم ایم اے نے ووٹ لیکر بھاری اکثریت حاصل کی لیکن تقریباً پانچ سال کے دوران انہوں نے ’شریعت بل‘ بناکر اسے اپنی مدت پوری ہونے تک مختلف حیلوں بہانوں سے التواء میں رکھا۔
اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی سیکولر جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے محض چند ماہ کے دوران نظامِ عدل ریگولیشن کے ترمیمی مسودے کو حتمی شکل دیکر اسے دو ماہ کے اندر نافذ کرنے کے فیصلے نے سب کو حیران کردیا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں جماعتیں دو ہزار دو سے دو ہزار آٹھ تک صوبائی اسمبلی کے فلور پر سیکولریزم کا علم لیکر ایم ایم اے کے شریعت بل اور حسبہ بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس سے صوبے میں’ ادارتی طالبانائزئشن‘ کو فروغ دینے سے تعبیر کرتی تھیں۔ لوگ اس لیے بھی زیادہ حیران ہیں کہ جس قدم کو اٹھانے میں مذہبی جماعتیں جنہیں اے این پی اور پیپلز پارٹی ’بنیاد پرست اور طالبان یافتہ‘ کے القابات سے نوازتے رہے ہیں پس و پیش سے کام لے رہی تھیں ان دونوں سیکولر جماعتوں نے’ بنیادپرستوں‘ سے بھی بڑھ کر اپنے اقتدار کے پہلے چند مہینوں میں اسے انجام کو پہنچایا۔ مالا کنڈ ڈویژن کے جن سات اضلاع میں شرعی عدالتوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں یہاں سے اٹھارہ فروری کے انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی اسی فیصد سے زیادہ نشستیں اے این پی اور پیپلز پارٹی نے حاصل کی ہیں۔ ضلع سوات میں تو اے این پی نے ’ کلین سویپ‘ کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی تمام سات نشستیں جیتی ہیں۔
اس جیت کے بعد اے این پی اور پی پی پی کے قائدین یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ’عوام نے سیکولر جماعتوں کو جتواکر مذہبی جماعتوں اور شدت پسندوں کو مسترد کردیا ہے‘۔ ان دونوں جماعتوں کے انتخابی منشور میں اسکا ذکر سرے سے تھا ہی نہیں کہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہ شرعی عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں لوگوں نے ان کے سیکولر ایجنڈے کو ووٹ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتوں سے اب یہ سوال کیا جارہا ہے کہ انہوں نے مسلح طالبان کو خوش کرنے کے لیے ایک بہت بڑی آبادی کی رائے کو نظر انداز کرکے’ بیلٹ کی بجائے بولٹ کو ترجیح دی‘۔ حالانکہ نظامِ عدل ریگولیشن میں ترمیم کرنے کے اعلان کے موقع پر صوبہ سرحد کے وزیر اعلی نے ضلع سوات میں سرگرم مسلح طالبان کو مٹھی بھر شر پسند افراد کہا جن میں بقول ان کے بیرونی عناصر بھی ملوث ہیں گویا ’مٹھی بھر شرپسندوں اور بیرونی عناصر’ کے لیے اکثریت کی رائے کو قربان کردیا گیا‘۔ حکمران صوبائی حکومت کو اب بعض حلقوں کی طرف سے اس تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑے گا کہ اس نے صرف اس بنیاد پر مالاکنڈ کے عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کیے لیے اقدامات کیے کہ وہاں پر بعض لوگ اس کے لیے مبینہ طور پر مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔یعنی مبصرین کے مطابق حکمران صوبے کے دیگر انیس اضلاع کے عوام کو ایک قسم کا پیغام دیا جا رہا ہے کہ مطالبات منوانے کا مؤثر ذریعہ مسلح جدوجہد ہے۔ | اسی بارے میں قبائلی علاقوں میں ’شرعی‘ عدالتیں 15 July, 2008 | پاکستان سوات میں چوروں کو کوڑوں کی سزا18 September, 2008 | پاکستان حکام سے عاصمہ جہانگیر کی اپیل25 September, 2008 | پاکستان سوات میں مزید دو سکول نذرِ آتش24 September, 2008 | پاکستان ’مردہ بھینس بیچنے پر کوڑوں کی سزا‘25 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||