سوات میں چوروں کو کوڑوں کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی آپریشن کے جاری رہنے کے باوجود طالبان نے جمعرات کو سینکڑوں افراد کی موجودگی میں دو افراد کو چوری کے الزام کے تحت ’شرعی سزا‘ دی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کو ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ سے پچپن کلومیٹر دور تحصیل مٹہ کے لابٹ کے علاقے میں سکول کے ایک میدان میں سزائیں دی گئی ہیں۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مقامی افراد پر ایک جیولر نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ان کی دکان سے ساڑھے تین لاکھ رپے اور سونا چُرایا ہے۔ ان کے بقول طالبان نے ان افراد کو پکڑ کر مرکزی شورٰی کے سامنے پیش کردیا۔ ان کےدعوے کے مطابق ان افراد نے اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد انہیں سولہ سولہ کوڑے مارنےکا فیصلہ سنایا گیا۔ سزا دیئے جانے کے موقع پر سوات کے مقامی صحافی شیرین زادہ بھی موجود تھے جنہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سینکڑوں افراد کے اجتماع کے سامنے ان دونوں افراد کو پیش کردیا گیا جن کے ہاتھ پیچھے سے باندھے گئے تھے اور انہوں نے کہا کہ وہ’ بخوشی اپنے جُرم کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں تاکہ وہ آخرت کے عذاب سے بچ سکیں‘۔ ان کے مطابق اس کے بعد دو طالبان نےانہیں آہستہ آہستہ سولہ سولہ چابک مارے جبکہ اس موقع پر ایک میز پر ان کی جانب سے مبینہ طور چوری کی گئی ساڑھے تین لاکھ روپے کی رقم بھی رکھی گئی تھی۔ یاد رہے کہ سوات میں پاکستانی فوج نے جیٹ طیاروں، گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپخانے سے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے مگر سینکڑوں افراد کی موجودگی میں لوگوں کو سرِ عام سزاؤں سے طالبان کی قوت اور فوجی آپریشن کے مؤثر ہونے کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں سوات میں پچیس سکیورٹی اہلکار رہا15 September, 2008 | پاکستان سوات خودکش حملہ، تین ہلاک16 September, 2008 | پاکستان طالبان سوات چھوڑ جانے پر تیار16 September, 2008 | پاکستان ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان امریکی جاسوسی فضا سے، زمین پر پاکستان مضبوط12 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||