سوات خودکش حملہ، تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ تحصیل کبل میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر خودکش حملہ ہوا ہے جس میں تین اہلکار ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد خان نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی رات تقریباً آٹھ بجے تحصیل کبل کے توتانو بانڈہ میں واقع ایک سکول میں قائم سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر مبینہ خودکش حملہ ہوا ہے۔ ان کے بقول حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلا ک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔ ایک اور حکومتی اہلکار نے بتایا ہے کہ حملے کے دوران ہی نامعلوم مقام سے کیمپ پر چھ راکٹ بھی داغے گئے۔ عینی شاہدین کے بقول انہوں نے ایک زوردار دھماکہ سنا جس کے بعد شدید فائرنگ شروع ہوگئی ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو فون کرکے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش بمبار بارود سے بھری ایک گاڑی میں سوار تھا جس نے گاڑی کیمپ کے اندر داخل کر کے دھماکے کے ساتھ اڑادی ہے۔ ان کے مطابق حملہ باجوڑ اور سوات میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری آپریشن کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز پر یہ خودکش حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب منگل ہی کو ایک جرگے نے مذاکرات کے بعد مسلح طالبان کو تحصیل کبل کا علاقہ کوزہ بانڈہ خالی کرنے پر آمادہ کرلیا تھا۔ | اسی بارے میں حکومت کے بعد طالبان کے در پر16 September, 2008 | پاکستان سوات میں پچیس سکیورٹی اہلکار رہا15 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||