حکومت کے بعد طالبان کے در پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’طالبان بھائیو! میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کرتی ہوں کہ میرا بھائی پولیس کی نوکری چھوڑ کر محنت مزدوری کرے گا لیکن میرے بھائی کو جو ہمارے مستقبل کی واحد امید ہے رہا کر دو۔ خدا کے لیے رہا کر دو، خدا کے لیے رہا کر دو۔‘ گزشتہ دنوں ہنگو کے قریب اغوا ہونے والے تیس زیر تربیت پولیس سپاہیوں میں سے ایک کی بہن نے منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی طالبان کو اپنی اپیل میں یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی۔ اس انتہائی پریشان حال عورت نے طالبان کی جانب سے اپنے اغوا شدہ بھائی کو نقصان پہنچائے جانے کے خدشے کے پیش نظر اپنا یا اپنے بھائی کا نام بتانے سے گریز کیا۔ ٹیلیفون پر بات کے دوران وہ بار بار پوچھتی رہی کہ آیا اس اپیل سے اس کے بھائی کو کوئی خطرہ تو نہیں ہوگا۔ ’آپ بتائیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا۔ آپ تو تجربہ کار ہیں میں جو کہہ رہی ہوں اس سے بھائی کو کوئی خطرہ تو نہیں ہوگا۔‘ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو اور قبائلی علاقے اورکزئی میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے تین ستمبر کو پولیس کے ان زیر تربیت تیس اہلکاروں کو پولیس ٹریننگ سنٹر ہنگو جاتے ہوئے راستے سے اغوا کر لیا تھا۔ طالبان ان اغوا شدہ افراد کے بدلے حکومت سے اپنے چند ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گیارہ ستمبر کو اغوا شدہ افراد میں سے دو کا سر قلم کرکے ان کی لاشیں ویرانے میں پھینک دی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے ان اغوا شدہ افراد کے رشتہ داروں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سب کے رشتہ دار شدید ذہنی کرب سے گزر رہے ہیں۔ ایک اغوا شدہ ریکروٹ کی بیوہ بہن کا کہنا تھا کہ ان کے والد دل کے عارضے میں مبتلا ہیں جبکہ والدہ کی حالت یہ ہے کہ چیخ کر اکثر دروازے کی جانب بھاگ پڑتی ہیں۔ ’رمضان کا مہینہ ہے لیکن نہ سحری کا پتہ ہے نہ افطاری کا۔ بس دماغ نے کام چھوڑا ہوا ہے۔ عورت ہونے کے ناطے لوگوں کی عجیب عجیب باتیں سنی اور نظریں سہنی پڑتی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت سے مدد کی خاطر ہر سرکاری اہلکار کا دروازہ کھٹکھایا لیکن انہیں شکایت تھی کہ ان کی شنوائی کہیں بھی نہیں ہوئی۔ حکومتی سرد مہری کے بعد ان سپاہیوں کے رشتہ داروں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ آخر کس سے رابطہ کریں، کس سے درخواست کریں۔ اکثر صحافیوں سے رابطہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کی اپیل طالبان تک پہنچا دیں۔ بعض رشتہ داروں نے گزشتہ روز پشاور کے قریب چمکنی کے مقام پر ان پولیس ریکروٹس کی رہائی کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطے کئی گھنٹوں تک منقطع کر دیے تھے۔ پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھیوں کی مدد سےجی ٹی روڈ اور موٹروے پر ٹریفک بحال کروانی پڑی۔ صوبہ سرحد کے شانگلہ ضلع سے تعلق رکھنے والے کشور خان بھی اغوا شدگان میں شامل ہیں۔ ان کے تین بچے، بیوی اور بھائی بھی شدید مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ کشور کے بھائی انور زیب نے بتایا کہ ان کی والدہ کو اس اغوا سے شدید دھچکا لگا ہے اور ان کو اس وقت چوبیس گھنٹے مسلسل طبی امداد فراہم کرنا پڑ رہی ہے۔ ’اس کے بیوی بچے بھی باپ کی راہ تک رہے ہیں۔‘ طالبان اور حکومت کو اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ طالبان کے مطالبات منظور کرتے ہوئے ان افراد کی رہائی کو ممکن بنائے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طالبان سے اس بابت رابطے کیے تھے جنہوں نے کوئی نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی کروائی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اس کے بدلے حکومت کو طالبان کے مطالبات ماننے ہوں گے۔ صوبہ سرحد کے ایک دوسرے علاقے سوات میں گزشتہ روز مقامی طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے یرغمال پچیس اہلکاروں کی رہائی سے ہنگو میں اغوا شدگان کے رشتہ داروں کی امید یقینا بڑھی ہے لیکن دل کا خوف نہیں گیا۔ |
اسی بارے میں سوات میں پچیس سکیورٹی اہلکار رہا15 September, 2008 | پاکستان پشاور،مغوی پولیس والوں کیلیے احتجاج15 September, 2008 | پاکستان ’پہلا امتحان آئی ایس آئی پر قابو پانا ہے‘08 September, 2008 | پاکستان تیرہ فوجیوں کی لاشیں برآمد30 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||