طالبان سوات چھوڑ جانے پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جاری آپریشن کے دوران مقامی جرگے اور طالبان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد مسلح طالبان نے علاقہ خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ دوسری طرف طالبان کاگڑھ سمجھے جانے والے کوزہ بانڈہ میں منگل کو کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے البتہ سکیورٹی فورسز نےگزشتہ شب چار مسلح طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ قومی امن جرگہ کانجو کے ایک رہنماء انعام الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹھارہ رکنی جرگےاور طالبان کے رہنماؤں کے درمیان منگل کو ہونے والی بات چیت میں طالبان اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ آج رات تک کوزہ بانڈہ کا علاقہ خالی کردیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کی صبح سکیورٹی فورسز اور جرگے کے اراکین علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کےہمراہ کوزہ بانڈہ جائیں گے تاکہ وہاں پر بچھائی گئیں بارودی سرنگیں صاف کی جاسکیں۔ان کے بقول سکیورٹی فورسز اور جرگہ لوگوں کو جانی و مالی نقصانات کا تخمینہ بھی لگائیں گے تاکہ ان کا بعد میں ازالہ کیا جاسکے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی مشران کے ساتھ بات چیت میں اس بات کا فیصلہ ہوا کہ طالبان کے نکل جانے کے بعد سکیورٹی فورسز بھی علاقے میں داخل نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے مقامی لوگوں کی مشکلات کو دیکھ کر علاقے سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ان کے بقول طالبان بدھ کی صبح تک علاقہ خالی کردیں گے اور انہوں نے بچھائی گئی بارودی سرنگیں خود صاف کردی ہیں۔
اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ طالبان اور مقامی جرگے کے درمیان ہونے والی بات چیت کا سکیورٹی فورسز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کے بقول حکومت اپنے مقاصد کے حصول تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ میجر مراد خان نے دعوی کیا کہ سکیورٹی فورسز نے کوزہ بانڈہ میں گزشتہ رات کو چار مبینہ عسکریت پسندوں کو مار دیا ہے تاہم طالبان ترجمان مسلم خان نے اس دعوی کی تردید کی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ دوہفتوں سے طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے کوزہ بانڈہ کو گن شپ ہیلی کاپٹروں، لڑاکا طیاروں اور بھاری توپخانے سے نشانہ بنا رہے ہیں جس میں انہوں نے درجنوں طالبان کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی کاروائیوں میں عام شہری بھی بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں۔ کوزہ بانڈہ میں کارروائی کرنے کے حکومتی اعلان کے بعد سینکڑوں خاندانوں نے قریبی علاقوں کی طرف نقل مکانی کی ہے۔نقل مکانی کرنے والے ایک شخص جان عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک دس ہزار سے زیادہ لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں جن میں سے بڑی تعداد میں لوگ کانجو کے علاقے میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ ان کے بقول لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں ہے اور نہ ہی ابھی تک حکومت اور فوج نے اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد کی ہے البتہ ہلال احمر نے کچھ خیمے دے دیئے ہیں۔ جان عالم کے مطابق لوگوں کے مال مویشی اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور بہت سے زخمی ایسے تھے جنہیں مسلسل فائرنگ کی وجہ سے وہاں پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ بعد میں دم توڑ گئے۔ | اسی بارے میں سوات کارروائی میں تیس ہلاک03 September, 2008 | پاکستان سوات میں کرفیو، مزید ہلاکتیں03 September, 2008 | پاکستان چینی انجینئر طالبان کے قبضے میں02 September, 2008 | پاکستان باجوڑ: نو شہری گولہ باری کا شکار02 September, 2008 | پاکستان پاکستان:کہیں جنگ بندی کہیں لڑائی01 September, 2008 | پاکستان ’سوات میں 23 شدت پسند ہلاک‘28 August, 2008 | پاکستان سوات: طالبان کا حملہ، آٹھ ہلاک25 August, 2008 | پاکستان سوات:خودکش حملہ، ہلاکتیں 23 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||