’ایک ماہ میں سینکڑوں ہلاکتیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری آپریشن میں پانچ بڑے کمانڈروں سمیت مقامی طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ سو شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے یہ اعدادوشمار غیر ملکی صحافیوں کے متاثرہ علاقے کے دورے کے موقع پر جاری کیے گئے تاہم آزاد ذرائع سے ان اعدادوشمار کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس دورے کا اہتمام پاک فوج نے ہی کیا تھا۔یاد رہے کہ امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد غیر ملکی خبر رساں اداروں کی جانب سے بارہا حکومتِ پاکستان سے شدت پسندی کا مبینہ مرکز سمجھے جانے والے پاکستانی قبائلی علاقوں کے دورے کی درخواستیں کی گئی تھیں تاہم حکومت نے ان درخواستوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ باجوڑ کے مرکزی قصبے خار میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے فرنٹیئر کور کے آئی جی طارق خان نے ہلاک شدگان کی تعداد پانچ سو سے ایک ہزار کے درمیان بتائی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج پانچ سو شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتی ہے تاہم خفیہ اداروں کے مطابق یہ تعداد پانچ سو سے ایک ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگست میں شروع ہونے والے اس آپریشن کے دوران ستائیس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک سو گیارہ زخمی بھی ہوئے۔ آئی جی طارق خان نے بتایا کہ آپریشن کے دوران مارے جانے والوں میں چار غیر ملکی کمانڈر بھی تھے جن میں مصر سے تعلق رکھنے والے ابو سعید المصری، عرب نژاد ابو سلیمان، ازبک کمانڈر ملا منصور اور افغان کمانڈر منارس شامل ہیں۔ ان کے مطابق پانچواں کمانڈر عبداللہ نامی ایک پاکستانی تھا جو باجوڑ کے عمر رسیدہ رہنما مولوی فقیر محمد کا بیٹا تھا۔ طارق خان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں فوجی آپریشن آئندہ چھ ہفتے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے باجوڑ کو شدت پسندوں کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ اگر باجوڑ شدت پسندوں کو شکست ہو جاتی ہے تو پینسٹھ فیصد شدت پسندی کا خاتمہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا ’اگر انہیں یہاں شکست ہوتی ہے تو یہ سب کچھ ہار جائیں گے۔ اور اگر ہم نے کارروائی نہ کی تو یہ ہر سمت میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا مرکز بن جائے گا‘۔ ادھر بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق باجوڑ میں ہی سکیورٹی
فورسز کی تازہ کارروائی میں کم از کم سات مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اتماخیل قبائل کے ایک جرگہ نے عسکریت پسندوں کے خلاف رضا کارانہ طور پر مُسلح لشکر کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جمعہ کو باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار کے مختلف علاقوں کوثر، لوئی سم اور رشکئ میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپخانے سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں سات مقامی طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ باجوڑ کی تحصیل اتمان خیل میں قبائل کا ایک جرگہ بھی ہوا ہے جس میں عسکریت پسندوں کے خلاف رضا کارانہ طور پر مُسلح فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ جرگہ میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ طالبان کو پناہ دینے والے کا گھر جلایا جائے گا اور دس لاکھ روپے جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں باجوڑ آپریشن، مزید سات ہلاک26 September, 2008 | پاکستان باجوڑ گولہ باری، ’آٹھ طالبان‘ہلاک25 September, 2008 | پاکستان باجوڑ: جھڑپوں میں 25 طالبان ہلاک24 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان ’غیر ملکی جنگجو مرکز نشانہ‘16 September, 2008 | پاکستان ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ:’تازہ حملوں میں تیس ہلاک‘14 September, 2008 | پاکستان تیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ13 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||