باجوڑ آپریشن، مزید سات ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی میں کم از کم سات مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اتماخیل قبائل کے ایک جرگہ نے عسکریت پسندوں کے خلاف رضا کارانہ طور پر مُسلح لشکر کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جمعہ کو باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار کے مختلف علاقوں کوثر، لوئی سم اور رشکئ میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپخانے سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں سات مقامی طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ سکیورٹی فورسز نے رات بھر ٹانگ خطاء؛چارمنگ؛اور تحصیل ماموند کے مختلف علاقوں پر مارٹرگنوں اور بھاری توپخانے سےگولہ باری بھی کی جس میں حکام نے مقامی طالبان کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ باجوڑ کی تحصیل اتمان خیل میں قبائل کا ایک جرگہ بھی ہوا ہے جس میں عسکریت پسندوں کے خلاف رضا کارانہ طور پر مُسلح فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ جرگہ میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ طالبان کو پناہ دینے والے کا گھر جلایا جائے گا اور دس لاکھ روپے جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ ادھر پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں آپریشن کے بعد تباہ شدہ رابطہ پلوں کے مرمت کا کام جاری ہے اور عارضی طور پر پلوں کے قریب سے متبادل راستے بنائےگئے ہیں جن پرگاڑیوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ گولہ باری، ’آٹھ طالبان‘ہلاک25 September, 2008 | پاکستان باجوڑ: جھڑپوں میں 25 طالبان ہلاک24 September, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی، حکومتی پالیسی مبہم‘23 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان ’غیر ملکی جنگجو مرکز نشانہ‘16 September, 2008 | پاکستان ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ:’تازہ حملوں میں تیس ہلاک‘14 September, 2008 | پاکستان تیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ13 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||