BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 September, 2008, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ:’تازہ حملوں میں تیس ہلاک‘

 گن شپ ہیلی کاپٹر(فائل فوٹو)
گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں نے طالبان ٹھکانوں پر حملے کیے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں جس میں
تیس عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف طالبان نے ایک حملے میں سات سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے اتوار کی شام جاری ہونے والے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر توپ بردار ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سے مزید حملے کیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چار دنوں میں سو سے زائد طالبان جنگجو ہلاک جبکہ سکیورٹی فورسز کے بھی آٹھ اہلکار ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے ہیں۔تاہم دوسری طرف طالبان نے حکومتی دعوے کو مسترد کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے جوابی دعوے میں کہا ہے کہ اتوار کو شیخ با با پل کے قریب سکیورٹی فورسزپر ایک حملے میں سات اہلکار ہوئے جبکہ سات کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔

باجوڑ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح لڑاکا طیاروں اور توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے لوئی سم، رشکئی، ٹانک خطا، کوثر اور بانڈہ کے علاقوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی اور حملوں کا یہ سلسلہ دوپہر تک جاری رہا۔

 حکام نے دس دن کے بعد پہلی مرتبہ منڈہ سے صدر مقام خار تک کرفیو میں سات گھنٹے کی نرمی دی جس دوران تمام بازار اور تجارتی مراکز کھل گئے اور خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ تاہم تحصیل خار کے علاقوں شنڈئی موڑ، توحید آباد، بلال آباد اور صدیق آباد میں مسلسل دسویں روز بھی کرفیو نافذ رہا

ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ بمباری میں متعدد طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں جن میں کچھ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ تاہم طالبان نے حکومتی دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔

ادھر طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ صدیق آباد پھاٹک کے قریب شیخ بابا پل کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر ایک حملے میں سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سات کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دریں اثناء حکام نے دس دن کے بعد پہلی مرتبہ منڈہ سے صدر مقام خار تک کرفیو میں سات گھنٹے کی نرمی دی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کرفیو میں نرمی کے وقت تمام بازار اور تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ اس دوران بازاروں میں خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔تاہم تحصیل خار کے علاقوں شنڈئی موڑ، توحید آباد، بلال آباد اور صدیق آباد میں مسلسل دسویں روز بھی کرفیو نافذ رہا جس سے ان علاقوں میں شدید غذائی قلت پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

باجوڑ میں آپریشن کی وجہ سے لوگوں نے ایک بار پھر کئی علاقوں سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تحصیل خار پر سکیورٹی فورسز کا مکمل قبضہ ہوجانے کے بعد حکومت نے اب طالبان کے ایک اہم مرکز سالار زئی تحصیل میں کارروائی کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔

اسی بارے میں
تیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ
13 September, 2008 | پاکستان
خار کا محاصرہ، متضاد دعوے
10 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ میں بیس جنگجو ہلاک
11 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد