افغان مہاجر باجوڑ چھوڑ رہے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کی جانب سے افغان مہاجرین کو تین دن کے اندر علاقہ چھوڑ دینے کی ڈیڈ لائن کے بعد جمعہ کو متعدد افغان خاندانوں کے علاقے سے نکل جانے کی اطلاعات ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعہ کو مختلف علاقوں سے افغان مہاجرین کے متعدد خاندانوں کو نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ان کے بقول آج دوسرے روز بھی مقامی انتظامیہ کی طرف سے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے یہ اعلان ہوتا رہا کہ علاقے میں آباد افغان مہاجرین تین دن کےاندر باجوڑ سے نکل جائیں۔ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر سے جمعرات کو عوام کے نام جاری ہونے والے ایک حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے باجوڑ ایجنسی میں افغان مہاجرین کے مزید رہنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ تین دن کے اندر علاقہ چھوڑ دیں۔ حکمنانے میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اس مدت کے دوران افغان مہاجرین کرائے پر دیئے گئے مکانات اور دکانیں خالی کروا دیں بصورتِ دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم حکام نے علاقے سے افغان مہاجرین کو بیدخل کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں پولٹیکل حکام سے رابطے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ باجوڑ میں رہنے والے افغانوں کی درست تعداد بھی معلوم نہیں ہو سکی تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق باجوڑ میں رہنے والے زیادہ تر افغان مہاجرین کا تعلق افغانستان سے متصل صوبہ کُنڑ سے ہے جہاں پر حالیہ آپریشن کے دوران باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے سینکڑوں افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ باجوڑ کے عنایت کلی میں کپڑے کے ایک افغان تاجر عبدالخالق نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومتی اعلان پر جلد عملدرآمد اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ان کا مقامی لوگوں کے ساتھ کروڑوں روپے کا لین دین ہے ۔ ان کے مطابق وہ گزشتہ پینتیس سال سے یہاں رہائش پزیر ہیں اور انہیں اپنا کاروبار سمیٹنے کے لیے چار مہینے کی مہلت دی جائے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نےباجوڑ میں دو ہزار پانچ کے دوران چالیس ہزار سے زائد مہاجرین پر مشتمل تمام کیمپ بند کردیئے تھے اور اس وقت وہاں رہنے والے افغان مہاجرین رجسٹر نہیں ہیں۔ بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ شک ہے کہ باجوڑ میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال میں افغان مہاجرین مبینہ طور پر ملوث ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی فوج نے چند دن قبل دعوی کیا تھا کہ اس وقت باجوڑ میں مسلح طالبان ایک افغان کمانڈر قاری ضیاء الرحمن کی قیادت یں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسِر پیکار ہیں۔ تاہم طالبان نے اس دعوی کی تصدیق نہیں کی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چند سال قبل طالبان کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائیوں کے بعد حکومت نے وہاں پر افغان مہاجرین کے کیمپ بند کرتے ہوئے انہیں وہاں سے نکال دیا تھا ۔تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب بھی وہاں پر بڑی تعداد میں افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ | اسی بارے میں افغان پناہ گزین، دو سال کی توسیع29 August, 2008 | پاکستان سرحد میں کیبل پر افغان چینل بند15 July, 2008 | پاکستان باجوڑ نقل مکانی میں اکثریت بچے 15 August, 2008 | پاکستان باجوڑ متاثرین کے لیے امریکی امداد20 August, 2008 | پاکستان ’پاکستان سب سے زیادہ مہمان نواز‘20 June, 2008 | پاکستان سرحد:افغان مہاجرین کیمپ بند30 May, 2008 | پاکستان جلوزئی: انخلاء کی کوششیں، کشیدگی16 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||