BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ متاثرین کے لیے امریکی امداد

باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی
پشاور میں واقع چارسدہ اڈہ اس وقت ایک مہاجر کیمپ کا منظر پیش کررہا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے بعد بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے امریکہ نے پچاس ہزار ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سفارتخانے کے ایک اعلامیے کے مطابق یہ امداد کیمپوں میں پناہ حاصل کرنے والی خواتین اور عمررسیدہ لوگوں کو بنیادی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے پر خرچ کی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو مزید امداد بھی دی جائے گی۔

دوسری طرف پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈزآسٹر منجمینٹ اتھارٹی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) فاروق احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت نے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے دو لاکھ سے زائد لوگوں کی امداد اور بحالی کے سلسلے میں کوئی اپیل نہیں کی تاہم عالمی امدادی تنظیموں نے حکومت کو امداد کی یقین دہائی کرائی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی سے دو سے تین لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جن میں زیادہ تر لوگ اپنے رشتے داروں کے پاس چلے گئے ہیں تاہم لگ بھگ پچاس ہزار لوگ دیر، سوات اور دوسرے قریبی علاقوں میں نقل مکانی کرگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان خاندانوں کی امداد کے سلسلے میں وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے گزشتہ روز غیرسرکاری تنظیموں کی کانفرنس بلائی تھی جس میں صورتحال پر غور کیا گیا اور اس سلسلے میں مختلف تنظیموں نے حکومت کا ہاتھ بٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

لوگ رشتے داروں کو ترجیح دیتے ہیں
 ’قبائلی علاقوں میں کیمپس وغیرہ لگائیں بھی تو بہت کم لوگ آتے ہیں اور زیادہ تر لوگ اپنے رشتے داروں کے پاس جاکر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کیمپوں میں بھی اب تک ضرورت سے زیادہ لوگ نہیں آئے ہیں
فاروق احمد خان

تاہم انہوں نے بتایا کہ بدھ کو اقوام متحدہ کے پاکستان میں متعین قائم مقام ریزائیڈنگ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر بلے نے ان سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ وہ تین سے چار دنوں میں حکومت کو آگاہ کردیں گے کہ اقوام متحدہ سے وابستہ عالمی امدادی تنظیمیں ان مہاجرین کی امداد میں کتنا حصہ دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے لیے حکومت نے پندرہ سولہ کیمپس لگائے ہیں اور انہیں ضروری اشیاء مثلاً خیمے، خوراک، بستر اور دوائیں وغیرہ فراہم کی جارہی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ہزاروں لوگوں کے لیے پندرہ سولہ کیمپ ناکافی نہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’قبائلی علاقوں میں کیمپس وغیرہ لگائیں بھی تو بہت کم لوگ آتے ہیں اور زیادہ تر لوگ اپنے رشتے داروں کے پاس جاکر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کیمپوں میں بھی اب تک ضرورت سے زیادہ لوگ نہیں آئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ ایک مقامی مسئلہ ہے جو ایک مخصوص علاقے تک محدود ہے اور حکومت اس سے نمٹ سکتی ہے تاہم اگر غیرسرکاری تنظیمیں، انسانی امداد کے ادارے یا دوست ممالک اس سلسلے میں مالی امداد کی پیشکش کریں تو پاکستان اسکا خیرمقدم کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد