باجوڑ، پندرہ طالبان سمیت 34 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےقبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں آپریشن کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں چودہ عام شہریوں، پانچ سکیورٹی اہلکاروں اور پندرہ مسلح طالبان سمیت چونتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ فضائی حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق جاری آپریشن کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں دس عام شہری اور چودہ مسلح طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں ایک حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو مسلح طالبان نے صدر مقام خار سے تقریباً بائیس کلومیٹر دو تحصیل چار منگ میں مٹاک کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کردیا۔ ان کے بقول سکیورٹی فورسز کے جوابی حملے میں کئی طالبان ہلاک ہوگئے ہیں جن کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہناہے کہ اس جھڑپ میں چودہ مسلح طالبان مارے گئے ہیں۔ طالبان نے اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ منگل کی شام گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے تحصیل خار کے زوڑ بند کے علاقے میں چار عام شہری بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ منگل کی شام ہی کو تحصیل ناوگئی کے دو قریبی گاؤں غونڈو اور ڈوڈو میں ہونے والی بمباری میں نشانے بننے والے چھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں تاہم اس واقعے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ حکام نے پیر اور منگل کی شببھی ناوگئی میں پانچ اہلکاروں اور پندرہ طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ طالبان نے اپنی ساتھیوں کے مارے جانے کی تردید کرتے ہوئے پچیس اہلکاروں کو ہلاک اور پانچ کے زندہ پکڑنے کا جوابی دعویٰ کیا تھا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری فضائی حملوں میں مسلح طالبان کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ اب تک تیس سے زائد عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں تاہم مقامی لوگ مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتارہے ہیں۔ فریقین کے درمیان جاری کارروائیوں کی وجہ سے حکومت کا کہنا ہے کہ اب تک ڈھائی لاکھ کے قریب لوگوں نے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ مقامی لوگ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تین لاکھ سے زائد بتارہے ہیں۔ حکومت نے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے صوبہ سرحد کے ضلع دیر، ملاکنڈ، مردان اور پشاور میں تقریباً بیس کیمپ قائم کیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت باجوڑ سنسان حالت میں پڑا ہے جہاں پر بازار کے علاوہ تمام تعلیمی اور سرکاری ادارے بند ہیں جبکہ شہر میں گزشتہ دس دنوں سے بجلی نہیں ہے اور لوگوں کو پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ: پانچ اہلکار، چودہ طالبان ہلاک19 August, 2008 | پاکستان باجوڑ میں’جنگ بندی‘ کا مطالبہ17 August, 2008 | پاکستان ’آپریشن غیر ملکی عناصر کے خلاف‘15 August, 2008 | پاکستان باجوڑ نقل مکانی میں اکثریت بچے 15 August, 2008 | پاکستان باجوڑ کے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور13 August, 2008 | پاکستان خار کا محاصرہ، متضاد دعوے10 August, 2008 | پاکستان ’طالبان کی خار کی جانب پیش قدمی‘09 August, 2008 | پاکستان سرحدی چوکیاں خالی، طالبان قابض25 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||