باجوڑ: حکومتی عملداری کہاں تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے تقریباً دو ماہ پورے ہو رہے ہیں لیکن اس دوران محض تحصیل خار کے پچاس فیصد علاقے میں حکومتی عملداری بحال کرائی جا چکی ہے۔ اب بھی سات میں سے چار تحصیلیں ایسی ہیں جو حکومتی کنٹرول سے باہر ہیں۔ البتہ فوجی کارروائی کے دوران توپخانے، جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مسلسل بمباری سے حکومت کو اس شکل میں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ اس نےمسلح طالبان کے ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ‘ کو انتہائی درجے تک کمزور کرتے ہوئے انہیں’ روپوش‘ ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ تقریباً آٹھ لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل باجوڑ ایجنسی سات تحصیلوں پر مشتمل ہے جس میں سے فوجی کارروائی سے قبل حکومت کو صدر مقام خار اور تحصیل قذافی اور ارنگ برنگ میں کنٹرول حاصل تھا۔ قذافی اور ارنگ برنگ میں اتمانزئی قبیلہ آباد ہے جس میں طالبان کا اثر و نفوذ روز اول سے ہی موجود نہیں ہے۔ طالبان کو تحصیل اوڑ ماموند، لوئی ماموند، چارمنگ اور تحصیل ناوگئی پر مکمل کنٹرول حاصل تھا۔ ان علاقوں میں طالبان کی ایک قسم کی باقاعدہ حکومت تھی جہاں پر انہوں نے اوڑ ماموند میں سیوئی کے مقام پر ایک بہت بڑا مرکز قائم کیا ہوا تھا جس میں دینی علماء’ شرعی عدالتیں‘ لگا کر سینکڑوں لوگوں کی مقدمات سماعت کرتے تھے۔
طالبان ترجمان مولوی عمر نے دو ماہ قبل بی بی سی کوبتایا تھا کہ ان کے پاس’سات سو مقدمات‘ زیر سماعت ہیں۔ اس کے علاوہ تحصیل خار کے علاقے عنایت کلی میں طالبان کی جانب سے ’دارلکفالہ‘ کے نام سے بنائے جانے والے ادارے کا دفتر قائم تھا جس کا مقصد جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے طالبان کے ورثاء کی مالی مدد کرنا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اُ تمانزئی قبیلے پر مشتمل دو تحصیلوں کی علاوہ صدر مقام خار سمیت باقی چا تحصیلوں میں مسلح طالبان دھندناتے پھر رہے تھے۔ حالت یہاں تک پہنچی تھی کہ سکیورٹی فورسز نےمختلف علاقوں میں موجود اپنی چوکیوں کو خالی کردیا تھا۔مگر حالیہ فوجی کارروائی سے قبل صدر مقام خار سے بارہ کلومیٹر دور لوئی سم کی جانب جب سکیورٹی فورسز کے قافلے نے پیشقدمی کرنےکی کوشش کی توطالبان نے انہیں کئی دنوں تک اپنے محاصرے میں لیے رکھا۔ اس دوران کئی دنوں کی بمباری کے بعد طالبان نے محاصرہ ختم کرکے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو محفوظ راستہ دیا تاہم اس دوران بیس سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا جن کی لاشیں دو ہفتے تک کھیتوں میں پڑی گل سڑ گئی تھیں۔ دو ہفتوں کی بمباری اور جھڑپوں کے بعد سکیورٹی فورسز کو پیچھے دھکیلنے کے بعد مسلح طالبان کا مورال اتنا بلند ہوگیا تھا کہ انہوں نے صدر مقام خار کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے فوج کے اعلی حکام کو بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کرنے کے فیصلے پر مجبور کیا۔اس کے بعد جو کارروائی شروع ہوئی اس میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی ہوئی اور تین لاکھ لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اس بار فوجی کارروائی میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو زمین کی بجائے فضائی حملوں سے نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ اس دوران بمباری کے نتیجے میں مبینہ عسکریت پسندوں کے علاوہ درجنوں عام شہری بھی ہلاک ہوئے جن میں بچوں اور خواتین کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہے۔ اپنے نوجوانوں کے جانی نقصانات کو کم کرنے یا انہیں یرغمال بنائے جانے سے بچانے کے لیے فضائی حملوں کی حکمت عملی قدرے کامیاب نظر آئی۔ اسی حکمت عملی کی نتیجہ میں مسلح طالبان تتر بتر ہوگئے اور انہیں روپوش ہونے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی عنایت قلعہ میں واقع ’ دارالکفالہ‘ کے دفتر کو فضائی حملے میں درجنوں دیگر دکانوں کے ساتھ بمباری کرکے تباہ کردیا گیا۔ طالبان کی متوازی حکومت، مراکز، دفاتر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کرکے انہیں روپوش ہونے پر مجبور تو کردیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ تقریباً دو ماہ سے جاری فضائی حملے کب تک جاری رہیں گے ؟ آخر حکومتی عملداری کو تو فضاء میں نہیں بلکہ زمین پر ہی قائم ہونی ہے مگر سکیورٹی فورسز نے گزشتہ ایک ماہ میں باجوڑ کے سات تحصیلوں میں سے صرف صدر مقام خار سے آگے تقریباً نو کلومیٹر کے علاقے کا کنٹرول حاصل کیا ہے جس سے برقرار رکھنا بھی ان کے لیے ایک مشکل بن گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز طالبان کی روپوشی کے باوجود ماضی میں ان کے زیر قبضہ تحصیل چارمنگ، ناوگئی ، اوڑ اور لوئی ماموند میں داخل ہونے سے اب بھی کوسوں دور دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلح طالبان نے سکیورٹی فورسز کے زمینی دستوں کو گزشتہ ایک ماہ سےصدر مقام خار سے آٹھ کلو میٹر دور رشکئی، ٹانک خطاء، کوثر، بائی چینہ اور لوئی سم کے مقامات پر روکے رکھا ہے حالانکہ زمینی دستوں کو جیٹ طیاروں، گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپخانے کی مدد بھی حاصل ہے۔
آخر سکیورٹی فورسز اس دلدل سے نکل کر آگے کیوں نہیں بڑھ پا رہی ہے۔؟ اس کے لیے پہلے اس علاقے کی’ سٹریٹیجک اہمیت‘ کو سمجھنا ہوگا۔ لوئی سم کے اس علاقہ کو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جسکی سرحد چارمنگ کے راستے افغانستان سے جاملتی ہے جبکہ دوسری طرف قبائلی علاقہ ماموند سے متصل ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں پرگھنے درخت، مکئی کے کھیت اور برساتی نالے بہت زیادہ تعداد میں ہیں اسی لیے اسے گوریلا جنگ کے لیے بہترین علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں غیر ملکی صحافیوں کو باجوڑ کے دورے کے موقع پر فرنٹیئر کور کے آئی جی طارق خان نے کہا تھا کہ ’اگر طالبان کو یہاں شکست ہوتی ہے تو یہ سب کچھ ہار جائیں گے۔ اور اگر ہم نے کارروائی نہ کی تو یہ ہر سمت میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا مرکز بن جائے گا۔‘ اگرچہ ان کی اس بات کو بعض مبصرین نے زیادہ اہمیت نہیں دی ہے لیکن اگر نقشہ پھیلا کر اس پر قبائلی علاقوں میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کی آپس میں روابط اور نقل و حرکت کے راستوں پر نظر دوڑائی جائے تو جنوبی وزیرستان سے باجوڑ تک ایک راستہ نظر آئے گا۔ بالفرض اگر کوئی شخص جنوبی وزیرستان سے روانہ ہوتا ہے تو وہ شمالی وزیرستان سے ہوتے ہوئے کُرم ایجنسی سے اورکزئی ایجنسی میں داخل ہوگا جہاں سے وہ خیبر ایجنسی کے راستے مہمند اور پھر باجوڑ کے لوئی سم کے علاقےتک پہنچ جائے گا۔ دو ماہ قبل باجوڑ کے طالبان جب سکیورٹی فورسز کے ساتھ برِ پیکار تھے تو انہوں نےخود اعتراف کیا تھا کہ ان کی مدد کے لیے باقی قبائلی علاقوں سے طالبان پہنچے تھے۔
لیکن طالبان ترجمان مولوی عمر کا مؤقف قدرے مختلف ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فوسز کی ایک ہی مقام پر ایک ماہ سے روکے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ طالبان اب بھی طاقتور ہیں۔ ان کا یہ بھت دعویٰ ہے کہ انہوں نےگزشتہ ایک ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز کو کافی جانی نقصان پہنچایا ہے۔ ماضی میں قبائلی علاقوں میں جتنی بھی فوجی کارروائیاں ہوئی ہیں اس میں سکیورٹی فورسز کے زمینی دستوں کو تلخ تجربات سے گزرنا پڑا ہے کیونکہ بھاری جانی نقصان کے باوجود انہیں مسلح طالبان پر خاطر خواہ برتری حاصل نہیں ہوسکی تھی بلکہ بعض مواقعوں پرانہیں یرغمال تک بنایا گیا تھا۔ جنوبی وزیرستان میں تقریباً تین سو فوجیوں کی یرغمالی اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ان تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے بظاہر کم سے کم زمینی کارروائی کا سہارا لینے کی حکمت عملی وضع کی ہے۔ اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے عملداری کی بحالی کے لیے حکومت قبائلیوں کو طالبان کے مقابل اٹھانے کا نسخہ آزمانا چاہ رہی ہے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے طالبان کو مار بھگائیں اور ان کے گھرں اور مراکز کو تباہ کردیں۔ جب وہ اپنا یہ کام بخوبی سرانجام دیں تب سکیورٹی فورسز کے زمینی دستے ان علاقوں میں داخل ہو کر اپنا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ مگران قبائلیوں کے سامنے بہت سےخطرات کا سامنا ہے لیکن چکی کی دو پاٹوں میں پِسنے والے ان قبائلیوں کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے۔ طالبان یا حکومت ، سُو اس وقت تو انہوں نے حکومتی حمایت کے آپشن کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’دوبارہ آپریشن کی وجہ حکومتی فیصلے‘29 September, 2008 | پاکستان کیانی باجوڑ میں، آپریشن پر بریفنگ28 September, 2008 | پاکستان باجوڑ میں پندرہ ’طالبان‘ ہلاک، سوات میں تشدد27 September, 2008 | پاکستان ’ایک ماہ میں سینکڑوں ہلاکتیں‘26 September, 2008 | پاکستان باجوڑ گولہ باری، ’آٹھ طالبان‘ہلاک25 September, 2008 | پاکستان باجوڑ: جھڑپوں میں 25 طالبان ہلاک24 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||