BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 October, 2008, 10:47 GMT 15:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی لشکر: طالبان گھر نذر آتش

قبائلی لشکر(فائل فوٹو)
جنوبی شمالی وزیرستان میں بھی قومی لشکر نے مقامی طالبان سے تعلق یا غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں سینکڑوں گھروں جلا دیے تھے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی قبائلی لشکر نے طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جس کے نتیجہ میں دو مقامی طالبان کے گھروں کو جلا دیاگیا ہے۔ لشکر کی مزید کارروائی جاری ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ جمیل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل وڑہ ماموند کے علاقے میں قومی لشکر نے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لشکر میں ایک ہزار سے زیادہ مسلح قبائلی نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔ جمیل کے مطابق مقامی طالبان کے دو اہم رہنماء رحمت اللہ اور سید باچا کے گھروں کو آگ دی گئی ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق تحصیل نواگئی کے علاقے چارمنگ میں پانچ سو رضاکاروں پر مشتمل قبائلی لشکر شدت پسندوں کے خلاف پیر سے کارروائی کا آغاز کرےگا۔ جبکہ سلارزئی قبائلی کا گرینڈ جرگہ بھی سات اکتوبر کو ہوگا۔

گندے پانی سے بیماری
 سوات میں مینگورہ گرڈ سٹیشن اور گیس پلانٹ کے تباہی کے بعد ضلع میں بجلی اور گیس کی سپلائی معطل ہوگئی جس کے باعث پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ آلودہ پانی پینے سے مینگورہ اور قریبی علاقوں میں گسٹرو کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے
دوسری جانب سوات میں تحصیل مٹہ کے علاقے سمبٹ میں نامعلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بارودی سرنگ سے حملہ کیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ سوات میڈیا سینٹر کے میجر ناصرنے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ جوابی کارروائی میں دو اہم طالبان رہنماء ایوب خان اور امیر زیب مارے گئے۔

سوات میں مینگورہ گرڈ سٹیشن اور گیس پلانٹ کے تباہی کے بعد ضلع میں بجلی اور گیس کی سپلائی معطل ہوگئی جس کے باعث پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ آلودہ پانی پینے سے مینگورہ اور قریبی علاقوں میں گیسٹرو کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ہسپتال کے ذرائع کے مطابق گیسٹرو سے متاثرہ افراد کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

یاد رہے کہ اس پہلے جنوبی شمالی وزیرستان میں بھی قومی لشکر نے مقامی طالبان سے تعلق یا غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں سینکڑوں گھروں جلا دیے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد لشکر میں حصہ لینےوالےاکثر قبائلی عمائدین قتل ہوگئے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران جنوبی شمالی وزیرستان میں تین سو سے زیادہ لوگوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف قبائلی لشکر
29 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد