قبائلی لشکر: طالبان گھر نذر آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی قبائلی لشکر نے طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جس کے نتیجہ میں دو مقامی طالبان کے گھروں کو جلا دیاگیا ہے۔ لشکر کی مزید کارروائی جاری ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ جمیل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل وڑہ ماموند کے علاقے میں قومی لشکر نے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لشکر میں ایک ہزار سے زیادہ مسلح قبائلی نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔ جمیل کے مطابق مقامی طالبان کے دو اہم رہنماء رحمت اللہ اور سید باچا کے گھروں کو آگ دی گئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق تحصیل نواگئی کے علاقے چارمنگ میں پانچ سو رضاکاروں پر مشتمل قبائلی لشکر شدت پسندوں کے خلاف پیر سے کارروائی کا آغاز کرےگا۔ جبکہ سلارزئی قبائلی کا گرینڈ جرگہ بھی سات اکتوبر کو ہوگا۔
سوات میں مینگورہ گرڈ سٹیشن اور گیس پلانٹ کے تباہی کے بعد ضلع میں بجلی اور گیس کی سپلائی معطل ہوگئی جس کے باعث پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ آلودہ پانی پینے سے مینگورہ اور قریبی علاقوں میں گیسٹرو کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق گیسٹرو سے متاثرہ افراد کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ یاد رہے کہ اس پہلے جنوبی شمالی وزیرستان میں بھی قومی لشکر نے مقامی طالبان سے تعلق یا غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں سینکڑوں گھروں جلا دیے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد لشکر میں حصہ لینےوالےاکثر قبائلی عمائدین قتل ہوگئے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران جنوبی شمالی وزیرستان میں تین سو سے زیادہ لوگوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں امن و امان ہماری ذمہ داری: لشکر10 July, 2008 | پاکستان طالبان کے خلاف قبائلی لشکر29 January, 2008 | پاکستان طالبان کا لشکر تیار کرنے کا اعلان17 November, 2007 | پاکستان غیر ملکیوں کے خلاف لشکر تیار03 April, 2007 | پاکستان لشکر کی تشکیل نہیں ہوسکی11 May, 2004 | پاکستان وانا: قبائلی لشکر کو مزید مہلت21 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||