امن و امان ہماری ذمہ داری: لشکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکومت اور مقامی شدت پسند تنظیم کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد لشکرِ اسلام نے کہا ہے کہ تحصیل باڑہ میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری اس کے پاس ہوگی۔ لشکرِ اسلام کے نائب امیر حاجی مستری گل نے جمعرات کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے باوجود تحصیل باڑہ میں امن و امان کا کنٹرول ان کے ہاتھوں میں ہوگا اور لشکرِ اسلام کے مسلح رضا کاروں کے علاوہ باڑہ بازار میں عام لوگوں کی طرف سے اسلحہ ساتھ رکھنے پر پابندی ہوگی جبکہ خلاف ورزی کرنے والے شخص کا اسلحہ ضبط کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لشکرِ اسلام پہلے کی طرح مبینہ منشیات فروشوں، اغواءکاروں اور فحاشی و عریانی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔البتہ انکا کہنا تھا کہ وہ معاہدے کی رو سے پشاور اور دیگر بندوبستی علاقوں میں اس قسم کی کاروائیاں نہیں کریں گے اور نہ ہی حکومتی املاک کو نشانہ بنائیں گے۔ ان کے بقول وہ آکاخیل، شلوبر اور کوہی کے علاقوں میں آپریشن کے دوران مسمار کیے گئے اپنے مراکز کو دوبارہ تعمیر کریں گے۔ باڑہ میں لشکرِ اسلام کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد قبائلی جرگے نے کئی دنوں کی کوششوں کے بعد فریقین کے درمیان بدھ کی شام ایک معاہدہ کروایا تھا۔ جرگے کے ایک رکن حاجی شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ معاہدے کے مطابق لشکرِ اسلام صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور اور دیگر بندوبستی علاقوں میں کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرے گی جبکہ اس کے علاوہ حکومتی املاک کو حملوں کو نشانہ نہیں بنایا جائےگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت جواب میں آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے والے بانوے افراد کو رہا کرے گی جبکہ کرفیو کو ختم اور تمام بند راستوں کو کھولا جائے گا۔ان کے مطابق علاقے میں پہلے سے موجود فرنٹیئر کور کےاہلکار یہیں پر رہیں گے جبکہ آپریشن کے لیے آنے والوں کو علاقےسے واپس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد جمعرات کو تمام راستے کھل گئے ہیں اور بازار میں لوگوں کے رش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ان کے مطابق جمعرات سے ہی بانوے کے قریب افراد کی رہائی کے لیے کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں خیبر ایجنسی کے پولٹیکل ایجننٹ اور دیگر حکام کا مؤقف جاننے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔ حکومت نے بارہ روز قبل تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز کے پانچ ہزار اہلکار تعینات کرکے وہاں پر آپریشن شروع کردیا تھا اور اس دوران انہوں نے لشکرِ اسلام کے کئی مراکز اور تنظیم کے سربراہ کے منگل باغ کے گھر کو مسمار کردیا تھا۔حکومت کا کہنا تھا کہ آپریشن کا مقصد صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کو جرائم پیشہ افراد سے محفوظ کرنا اور تحصیل باڑہ میں حکومتی عملداری کو بحال کرنا ہے۔ حکومت نے کسی بھی موقع پر اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ یہ کارروائی لشکرِ اسلام یا دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف کی جارہی ہے بلکہ صحافیوں کے بار بار پوچھے گئےسوالات کے جواب میں حکام یہی کہتے کہ’ کاروائی جرائم پیشہ افراد کے خلاف کی جا رہی ہے۔‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جرگے کی توسط سے لشکرِ اسلام کے ساتھ معاہدہ کر کے اپنی کارروائی اور موقف کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ | اسی بارے میں باڑہ: بازار کھل گئے، کرفیو میں نرمی06 July, 2008 | پاکستان خیبر، تین سکیورٹی اہلکار ہلاک08 July, 2008 | پاکستان فاٹا، سرحد: دو سر بریدہ لاشیں برآمد 09 July, 2008 | پاکستان ہنگو : تھانے کا محاصرہ ختم10 July, 2008 | پاکستان بارودی سرنگ پھٹنے سے تین ہلاک10 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||