خیبر، تین سکیورٹی اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مقامی شدت پسند تنظیموں کے خلاف شروع کی جانے والی کاروائی کے بعد پہلی مرتبہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے جس میں تین اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ خیبر ایجسنی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی شب سوا نو بجے اس وقت پیش آیا ہے جب نامعلوم مسلح افراد نے چترال اسکاؤٹس سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ان کے بقول حملے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ دو زحمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اپنی گاڑی میں تحصیل باڑہ میں ملبٹ ایف سی قلعے واپس جارہے تھے کہ گاڑی میں سوار مسلح افراد نے آکا خیل کے مقام پر ان پر حملہ کردیا۔ اہلکار کے مطابق مبینہ حملہ آور کی گاڑی باڑہ کی طرف جاتے ہوئےدیکھی گئی ہے۔ بارہ روز قبل سکیورٹی فورسز نے تحصیل باڑہ میں لشکرِ اسلام کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا تاہم انہیں پہلی مرتبہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام نے کارروائی کے آغاز ہی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف مزاحمت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قبائلی جرگے کے فعال ہونے کے بعد حکومت نے کارروائی غیر اعلانیہ طور پر روک کر کرفیو ہٹادیا تھا۔ حکومت اور لشکرِ اسلام کے درمیان اس وقت قبائلی جرگے کی توسط سے مذاکرات جاری ہیں تاہم اس میں ابھی تک کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ حالیہ ہلاکتوں کے بعد بارہ دنوں کی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہوگئی ہے جس میں تین اہلکاروں سمیت لشکرِ اسلام کا ایک جنگجو شامل ہیں۔ | اسی بارے میں باڑہ آپریشن کامیاب رہا ہے:گورنر04 July, 2008 | پاکستان باڑہ آپریشن: حکومت کا مقصد کیا ہے؟03 July, 2008 | پاکستان باڑہ آپریشن:اخبارات کی نظر میں02 July, 2008 | پاکستان باڑہ آپریشن: لوگوں کا نقصان، مذہبی تنازعے30 June, 2008 | پاکستان باڑہ میں دھماکہ، سات ہلاک30 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||