BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 July, 2008, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باڑہ آپریشن: حکومت کا مقصد کیا ہے؟

کارروائی میں فوج کو مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں لشکرِ اسلام کے خلاف شروع کی گئی کارروائی جاری ہے لیکن وزیرستان، درہ آدم خیل اور سوات میں اب تک جتنے بھی آپریشن کیے گئے ہیں ان کے مقابلے میں تازہ کارروائی کے حوالے سے حکومت کی حکمت عملی اور اس کی صدق دلی پر کچھ زیادہ ہی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے متصل خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز کے تقریباً پانچ ہزار جوان درجنوں ٹینکوں، توپخانے اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ گزشتہ پانچ روز سے ایک ایسی کارروائی کرنے میں مصروف ہیں جس میں انہیں بظاہر کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔

باڑہ آپریشن صوبائی حکومت کے اس جامع پلان کا حصہ ہے جس کے تحت پشاور کے مضافات میں مبینہ طور پر موجود عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جانا ہے۔

آپریشن کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل عالم خان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا آغاز تحصیل باڑہ سے اس لیے کیا جارہا کہ بقول ان کے یہ مبینہ جرائم پیشہ افراد کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپریشن چار یا پانچ روز تک جاری رہےگا۔

باڑہ کے بند بازار

لیکن پانچ دن گزرنے کے باوجود اب بھی کارروائی ختم نہیں ہوسکی ہے۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب تک حکومت نےکوئی کامیابی حاصل کی ہے یا نہیں۔

باڑہ میں کرفیو نافذ ہے، علاقے کو پشاور سے ملانے والے زیادہ تر راستے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔ کارروائی کے دوران لشکرِ اسلام کے سربراہ منگل باغ اور ان کے کئی دیگر ساتھیوں کے گھروں کو مسمار کردیا گیاہے جبکہ لشکرِ اسلام کے کئی مسلح حامیوں کو گرفتار بھی کیا جاچکاہے۔

لیکن ان تمام کارروائیوں کے باوجود تحصیل باڑہ کے دور اُفتادہ وادی تیراہ میں موجود منگل باغ نے گزشتہ روز پشاور اور خیبر ایجنسی کےصحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے مسکرا کر کہا کہ یہ ایک ناکام آپریشن ہے۔

ان کے بقول’پاکستان صرف اور صرف امریکہ کو دھوکہ دینے کے لیے آپریشن کررہا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے میرے گھر کو مسمار کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا’ کارروائی کے دوران ابھی تک کسی نے بھی سکیورٹی فورسز پر حملہ نہیں کیا ہے بلکہ وہ تو خود ہی یکطرفہ طور پر گولیاں چلاتے رہتے ہں۔اس حکومتی آپریشن کے باوجود لشکرِ اسلام علاقے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی البتہ سکیورٹی فورسز کے خلاف کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کی جائے گی۔‘

مفتی منیر شاکر لشکرِ اسلام کے بانی رہنماء ہیں جنہیں باڑہ میں مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد قبائلی جرگے اور پولیٹیکل انتظامیہ نے باڑہ بدر کردیا تھا۔انہیں دو ہزار چھ میں کراچی ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیااور پندرہ ماہ تک حراست میں رہنے کے بعد گزشتہ سال اگست میں رہا ہوگئے تھے۔ لشکرِ اسلام کی قیادت واپس حاصل کرنے پر ان کے اور منگل باغ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

منگل باغ کہتے ہیں کہ مزاحمت نہیں کی جائے گی۔

مفتی منیر شاکر کا الزام ہے کہ باڑہ آپریشن حکومت اور لشکر اسلام کے درمیان ایک گٹھ جوڑ ہے۔ان کے مطابق’سکیورٹی فورسز نے صرف ان کے کچے مکانات یا کمروں کو مسمار کیا ہے جنہیں پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔‘

ان کے بقول’ ملک دین خیل کے علاقے میں منگل باغ کا ایک پکا مکان ہے جس سے وہ اپنے مرکز کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن اسے نہیں گرایا گیا ہے۔میرے پاس ثبوت موجود ہیں کہ لشکرِ اسلام حکومت کی پیدا کردہ تنظیم ہے۔‘

تاہم حکومت اور لشکرِ اسلام مفتی منیر شاکر کے ان دعوؤوں کی تردید کرتے ہیں۔

فاٹا کے سابق سیکریٹری سکیورٹی بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ باڑہ آپریشن کو کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے حکومتی عملداری کو وسعت دیدی گئی ہے۔

کارروائی میں تباہ ہونے والا ایک مذیبی تنظیم کا مرکز

ان کےبقول’پشاور کی سکیورٹی کے لیے حکومتی عملداری کو مزید بیس کلومیٹر وسعت دینا تھا اور میرے خیال میں حکومت اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب ہوگئی ہے۔‘

مگر پشاور کےسینیئر صحافی بہروز خان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے حوالے سے حکومت ابتداء ہی سے کنفیوژن کی شکار ہے کیونکہ وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپائی ہے کہ یہ آپریشن جرائم پیشہ افراد یا پھر لشکرِ اسلام جیسی شدت پسند تنظیموں کے خلاف ہے۔

ان کے مطابق’ آپریشن کے دوران ہم نے دیکھ لیا ہے کہ اس میں زیادہ تر مکانات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ لشکرِ اسلام یا دیگر سرگرم تنظیموں کے اہم رہنماؤں یا کمانڈروں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکاہے۔ اس سے لوگوں کو سکیورٹی کے حوالے سے وہ اطمینان حاصل نہیں ہوا جس کی وہ آپریشن کے آغاز میں توقع کررہے تھے۔‘

تاہم صوبہ سرحد کے انسپکٹر جنرل پولیس ملک نوید اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے جس مقصد کے لیےکارروائی شروع کی گئی ہے اس میں انہیں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

ان کے بقول’ آپریشن کے نتیجے میں مبینہ عسکریت پسند تتر بتر ہوگئے ہیں۔ پشاور میں کئی دنوں سے تخریب کاری کا کوئی بھی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے جبکہ ہم پہلی مرتبہ مہمند ایجنسی کی سرحد پر واقع پچیس دیہات میں گئے ہیں جو ایک وقت میں نو گو ایریاز میں شمار ہوتا تھا۔‘

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں فائر بندی
17 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد