BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 July, 2008, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باڑہ: بازار کھل گئے، کرفیو میں نرمی

خیبر میں حکومتی اہلکار(فائل فوٹو)
لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی کوئی اہم گرفتاری عمل میں آئی
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں قبائلی جرگے اور حکومت کے درمیان بات چیت شروع ہو جانے کے بعد باڑہ تحصیل میں تمام بازار اور تجارتی مراکز کھل گئے ہیں اور کرفیو میں بھی نرمی کردی گئی ہے۔

اتوار کی صبح پشاور میں پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کے دفتر خیبر ہاؤس میں آفریدی قبائل کے ایک پینتس رکنی قبائلی جرگہ نے پولیٹکل حکام سے ملاقات کی اور باڑہ تحصیل میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے مبینہ شدت پسند تنطیموں کے خلاف شروع کی گئی کارروائی اور وہاں حکومت کی عمل داری بحال کرانے کے سلسلے میں بات چیت کی۔

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ طارق حیات خان نے بتایا کہ حکومت نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ باڑہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو علاقے میں امن کے قیام کے حوالے سے جرگے کے اراکین سے رابطے میں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ جرگے کی درخواست پر باڑہ تحصیل میں تمام بازار اور تجارتی مراکز کھول دیے گئے ہیں۔۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز علاقے میں تعینات رہیں گے۔

دریں اثناء جرگہ کے ایک رکن حاجی شوکت نے دعوی کیا کہ جرگے میں دونوں طرف کافی حد تک پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد جرگہ لشکر اسلام کے امیر منگل باغ سے بات چیت کےلیے وادی تیراہ روانہ ہوگا تاکہ فریقین کے مطالبات سننے کے بعد ان پر مزید بات کی جائے۔

کارروائی کےدوران کئی مکان مسمار کیے گئے ہیں

باڑہ میں موجود ایک صحافی فضل اللہ شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ہفتے کے بعد پہلی دفعہ علاقے میں لوگوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا جبکہ سڑکوں پر بھی گاڑیوں کا آمد رفت بحال ہوگئی ہے۔

حکومت نے ایک ہفتہ قبل صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے ملحقہ تحصیل باڑہ میں لشکرِ اسلام اور دیگر مذہبی تنظیموں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور پہلے چند دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے تنظیم کے کئی مراکز سمیت منگل باغ اور کئی رہنماؤں کے گھروں کو مسمار کردیا تھا۔

اس دوران حکومت نے بانوے کے قریب افراد کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ آپریشن کا مقصد پشاور کے مضافات میں کچھ عرصے سے امن و امان کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا اور تحصیل باڑہ میں حکومت کی عملداری بحال کرنا ہے۔

تاہم ابتداء ہی سے کارروائی شکوک و شبہات کی شکار ہے کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی انہوں نے شدت پسند تنظیم یا جرائم پیشہ گروہ کے اہم افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد