اسلام آباد، دیر میں پولیس پر حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور کے نزدیک دیر کے علاقے میں بم حملوں سے کم از کم دس افراد ہلاک اور اکیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب پاکستان میں امن و عامہ اور قبائلی علاقوں میں بدامنی پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا ہے اور فوج کے سربراہان دارالحکومت میں موجود ہیں۔ پشاور میں ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں قیدیوں کی ایک وین پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ ہوا جس میں دس افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں سکول کی چار بچیاں، دو پولیس اہلکار اور چار قیدی شامل ہیں۔ اس سے قبل اسلام آباد میں واقع پولیس لائنز میں انسداد دہشت گردی سکواّڈ کے دفتر کے باہر دھماکہ ہوا تھا جس میں تیرہ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے چار پولیس اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس لائنز اسلام آباد کے سیکٹر ایچ گیارہ میں واقع ہے۔دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس عمارت کا ایک حصہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک بائیس سالہ نوجوان جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق پونے ایک بجے کے قریب پولیس لائنز آیا اور اُس نے گیٹ پر موجود پولیس اہلکار سے کہا کہ اُس نے انسداد دہشت گردی سکواڈ کے محرر سے ملنا ہے جس کے بعد اُسے عمارت کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ اصغر رضا نے جائے حادثہ پر صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے سے چند لمحے قبل ایک آدمی سفید رنگ کی کرولا پر بیرک کے سامنے آیا اور اتر کر عمارت کے اندر گیا جہاں اس نے ریسیپشن پر موجود اہلکار کو مٹھائی کے دو ڈبے پکڑائے اور اس دوران دھماکہ ہو گیا۔
عینی شاہد کانسٹیبل جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ دھماکے میں معمولی نوعیت کے زخمیوں کو پولیس لائنز ہی میں واقع ڈسپنسری لے جایا گیا ہے جب کہ چار شدید زخمیوں کو قریبی ہسپتال لے بھیجا گیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کہ یہ خودکش حملہ ہے یا کار بم دھماکہ۔ انہوں نے کہا کہ حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد گاڑی میں رکھا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم کو گاڑی کا نمبر بھی مل گیا ہے۔ جس جگہ یہ دھماکہ ہوا ہے وہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی پولیس کے دستوں کی رہائش کے لیے استمعال ہوتی ہے اور دھماکے میں کم افراد اس لیے زخمی ہوئے کیونکہ وہاں پر رہائش پذیر پولیس اہلکار پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ڈیوٹی پر تعینات تھے جہاں پر ارکان پارلیمنٹ کو ملک میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں ذیشان حیدر کے مطابق اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہاں تین خمیوں کو لایا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ دیر بالا کے ضلعی رابطہ آفسر شیر بہادر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر پیش آیا ہے۔ ان کے بقول پولیس کی ایک وین پیشی کے لیے آنے قیدیوں کو واپس تیمرہ گرہ سینٹرل جیل لیجا رہی تھی کہ خوگہ اوبہ کے مقام پر سڑک کے کنارے نصب بم کا نشانہ بنی ہے۔ ان کے مطابق سکول کے بچیاں چھٹی کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ رہی تھیں کہ وہ حملے کی زد میں آگئیں۔ ضلعی رابطہ آفیسر شیر بہادر نے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دیر ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ان کے پاس آٹھ کے قریب زخمی لائے گئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجہ سے پولیس وین ایک گہرے کھڈ میں جاگری ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس لائن ہیڈ کورٹر میں شدت پسندوں کا داخل ہونا خود اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ20 September, 2008 | پاکستان رکنِ اسمبلی کے ڈیرے پر دھماکہ،بیس ہلاک06 October, 2008 | پاکستان بھکر حملے میں ہمارا ہاتھ نہیں: طالبان07 October, 2008 | پاکستان ’دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہوگا‘07 October, 2008 | پاکستان آخری دم تک لڑیں گے: اسفندیار 02 October, 2008 | پاکستان چارسدہ: ولی باغ پر خودکش حملہ02 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||