آخری دم تک لڑیں گے: اسفندیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چارسدہ میں اپنی رہائش گاہ پر خود کش حملے میں محفوط رہنے والے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی اپنی حالیہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف آخری دم تک لڑےگی۔ یہ بات انہوں نے ولی باغ پر ہونے والے حملے کے تھوڑی دیر بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ’میں میڈیا کی وساطت سے ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے حملوں سے انہیں اپنی راہ سے نہیں ہٹایا جاسکتا اور چاہے ان کی جان چلی جائے مگر جہاں پر بھی دہشتگردی اور انتہا پسندی ہو گی اے این پی آخری دم تک اس کے خلاف لڑے گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کا حملہ کرنا مناسب طریقہ نہیں ہے اور’میں اس میں مبینہ طور پر ملوث افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ان کے مطابق’ پشتوں سر زمین ہمارے لیے ماں کی مترادف ہے جس کی حفاظت کے لیے ہم آخری وقت تک خون بہانے کے لیے تیار ہیں۔‘ ان کے بقول عوامی نینشل پارٹی اپنی حالیہ پالیسی برقرار رکھے گی اور اپنی دھرتی کو مبینہ دہشتگردوں کے حوالے نہیں کرے گی۔ واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حجرے میں موجود تھے جہاں پر وہ عید کی مبارکباد وصول کر رہے تھے اور جب انہوں نے پینتیس کے قریب افراد کو رخصت کیا تو انہوں نےمبینہ خود کش حملہ آور کو ان کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق پولیس مبینہ خودکش حملہ آور پر مسلسل گولی چلا رہی تھی مگر وہاں سے صرف گرد وغبار اٹھ رہا تھا اور اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا تھا مگر تھوڑی دیر بعد ان کے محافظ نے حملہ آور کو دبوچ لیا کہ اور اسی دوران دھماکہ ہوا۔ | اسی بارے میں اے این پی کے نائب صدر ہلاک06 February, 2008 | پاکستان سب سے مذاکرات کرنے ہونگے: اسفند 25 February, 2008 | پاکستان ’برطانیہ طالبان سے مفاہمت کا حامی‘20 April, 2008 | پاکستان پشتون انتہا پسند نہیں: اسفندیار19 February, 2008 | پاکستان نور مینگل، امریکہ میں داخلہ نہیں02 July, 2008 | پاکستان سوات: مقامی رہنما سمیت 5 ہلاک21 August, 2008 | پاکستان شدت پسندی، ایک بڑا چیلنج23 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||