BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 October, 2008, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چارسدہ: ولی باغ پر خودکش حملہ

چارسدہ
سر میں گولی لگنے کے بعد مشکوک شخص جونہی زمین پر گرا تو اس دوران ایک دھماکہ ہوا
صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نےحکمران جماعت عوامی نینشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی رہائش گاہ کے سامنے مبینہ خود کش حملہ آور کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے جبکہ اس دوران ہونے والے دھماکے میں پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملے میں اے این پی کے رہنما اسفندیار ولی خان خود محفوظ رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چار افراد مارے گئے ہیں تاہم موقع پر موجود ایک سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں مبینہ خودکش حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبہ سرحد پولیس کے سربراہ ملک نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر ایک مبینہ خودکش بمبار ضلع چارسدہ میں واقع عوامی نینشل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کی رہائش میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس نے اسے مشکوک سمجھ کر گولی مار دی۔ ان کے بقول سر میں گولی لگنے کے بعد مشکوک شخص جونہی زمین پر گرا تو اس دوران ایک دھماکہ ہوا۔

ان کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار، اسفندیار ولی کا ایک محافظ اور بینک کا ایک منیجر موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ہیں۔

صوبہ سرحد پولیس کے سربراہ ملک نوید نے مزید کہا کہ مبینہ حملہ آور کا ہدف اسفند یار ولی کا حجرہ تھا جہاں پر وہ درجنوں افراد کے ساتھ موجود عید کی مبارکباد وصول کرنے میں مصروف تھے۔

آئی جی پولیس کے مطابق اسفندیار ولی خان جہاں بیٹھے ہوئے تھے اس جگہ سے یہ واقعہ تقریباً ستر گز دور ہوا ہے۔ ان کے بقول اس قسم کے حملوں کا خطرہ پہلے ہی موجود تھا اسی لیے وہاں پر پولیس کو الرٹ کردیا گیا تھا۔

موقع پر موجود ایک سکیورٹی اہلکار محمد اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ڈیوٹی پر مامور تھے کہ تقریباً سترہ یا اٹھارہ سالہ لڑکا آیا اور اس نے رہائش گاہ کے سامنے نصب حفاظتی گیٹ کے سامنے تلاشی دینے سے انکار کرتے ہوئے اسفندیار ولی کی جانب بھاگنے کی کوشش کی۔

حملہ آور بلٹ پروف جیکٹ میں تھے
 تلاشی سے انکار کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان پر گولیاں چلا ئیں تاہم اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی لیکن جب اس کے سر اور گلے میں گولی ماری گئی تو وہ زمین پر گر پڑے اور اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا
پولیس

ان کے بقول ’تلاشی سے انکار کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان پر گولیاں چلا ئیں تاہم اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی لیکن جب اس کے سر اور گلے میں گولی ماری گئی تو وہ زمین پر گر پڑے اور اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا‘۔

چارسدہ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس اب تک تین لاشیں اور اٹھارہ زخمی لائے گئے ہیں۔

ان کے بقول ہلاک ہونے والوں میں دو افراد کو سینے اور پیٹ میں گولیاں لگی ہیں جبکہ تیسرا شخص دھماکہ کے نتیجے میں ہلاک ہوا ہے۔

یاد رہے کہ صوبہ سرحد کی حکمران جماعت عوامی نینشل پارٹی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کر رہی ہے جس کی وجہ سے مبصرین کے بقول وہ علاقہ میں موجود شدت پسندوں کی نشانہ پر ہیں۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات سے قبل بھی چارسدہ میں پارٹی کے ایک انتخابی جلسے پر حملہ ہوا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔

ضلع سوات جہاں پر فوجی آپریشن جاری ہے عوامی نینشل پارٹی کے متعدد مقامی قائدین کو ’ٹارگٹ ’ کلنگ کا نشانہ بنایا گیاہے جبکہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء اور اراکین کے گھروں پر حملے کیے گے ہیں۔تاہم تازہ حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں
اے این پی کے نائب صدر ہلاک
06 February, 2008 | پاکستان
شیرپاؤ پر حملہ، درجنوں ہلاک
21 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد