شیرپاؤ حملہ، پولیس سراغ کی تلاش میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کی پولیس سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کے آبائی گاؤں شیرپاؤ میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کے ذمہ دار افراد کا سراغ لگانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ عید الاضحٰی کی نماز کے دوران ہونے والے اس حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں تین افراد کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چھ سے آٹھ کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا اور بم میں کیلیں اور بال بیرئنگ استعمال کیے گئے تھے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے فورینزک ماہرین دھماکے کے بعد بم کے بچ جانے والے ٹکڑے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس نے شیرپاؤ گاؤں کے نواح میں واقع ایک مدرسے پر چھاپہ مار کر سات طلباء کوگرفتار کیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان گرفتاریوں کا تعلق خودکش حملے سے ہے یا نہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے انتخاب امیر کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے پینتیس کو جمعہ کی شامل شیرپاؤ گاؤں کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ خود کش حملے کا واقعہ جمعہ کی صبح پیش آیا تھا اور اس میں ایک نامعلوم خودکش بمبار نے اپنے آپ کو بارود کے دھماکے سے اس وقت اڑا دیا تھا جب آفتاب احمد خان شیرپاؤ، ان کے صاحبزادے مصطفیٰ شیرپاؤ اور گاؤں کے سینکڑوں افراد علاقے کی جامع مسجد میں نماز عید ادا کر رہے تھے۔
دھماکے میں سابق وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ محفوظ رہے جبکہ ان کے بیٹے مصطفیٰ شیرپاؤ کو زخم آنے کی وجہ سے پشاور ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ ابتدائی طور پر حکام نے دھماکے میں اڑتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم بعد ازاں ضلع چارسدہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیروز شاہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے اور درجنوں لاشیں مسجد کے صحن میں پڑی دیکھی گئیں۔ ضلع چارسدہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی سہولیات کے کمی کے باعث دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو پشاور کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا۔ ضلع چارسدہ کے علاقے عمرزئی کے پولیس سٹیشن، جس کی حدود میں دہشت گردی کی یہ واردات رونما ہوئی، کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے نمائندے انتخاب امیر کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بیس افراد کی لاشیں چارسدہ کے علاقے تنگی کی ہسپتال پہنچائی گئیں، پانچ لاشیں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور نو لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ لے جائی گئیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے دھڑے کےسربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ پر گزشتہ آٹھ مہینوں میں ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے۔ پہلا حملہ بھی ان کے گاؤں میں واقع اُن کے حجرے میں ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تاہم تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ آفتاب شیر پاؤ آئندہ عام انتخابات میں ضلع چارسدہ سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار ہیں۔ سابق وزیر داخلہ کی جان کو ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر اُن کے حجرے میں عید الاضحیٰ کی نماز کی ادائیگی کے لیے انتظامات کیے گئے تھے اور گزشتہ شام سے پولیس کے اہلکار علاقے میں تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم جمعہ کی صبح انہوں نے اپنے حجرے کے بجائے علاقے کے عوام کے ساتھ گاؤں کی جامع مسجد میں نماز پڑھنے کو ترجیح دی۔ ادھر پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اس خودکش حملے کی مذمت کی ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ کوئی مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر اس طرح کی کارروائی کرنے کی نہیں سوچ سکتا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق صدرِ پاکستان نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔ |
اسی بارے میں شیرپاؤ پر خودکش حملہ، درجنوں ہلاک21 December, 2007 | پاکستان شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان ہلاکتیں 50 تک ہو سکتی ہیں: شیرپاؤ07 April, 2007 | پاکستان ’حملہ آور شیرپاؤ کی جانب بڑھ رہا تھا‘28 April, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان شیرپاؤ کے خلاف نیب کی درخواست15 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||