BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 December, 2007, 18:17 GMT 23:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرتا عام شہری ہی ہے

پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں دو حملے ہوئے
پاکستان میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صدرجنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو سمیت چھ اعلیٰ حکومتی، فوجی اور سیاسی شخصیات کو ’ ٹارگٹ‘ بنایاگیا ہے تاہم مبینہ دہشت گردوں کو اپنے’اہداف‘ کو نشانہ بنانے میں ناکامی ہوئی ہے۔ ان حملوں میں مبینہ ٹارگٹ کی بجائے دو سو چون سے زیادہ بےگناہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اس عرصے میں صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف وہ پہلی اعلیٰ حکومتی شخصیت تھے جن پر چودہ دسمبر دو ہزار تین کو راولپنڈی میں جھنڈا چیچی پل پر ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے حملہ کیا گیا تاہم اس حملے کو ناکام بنایا گیا تھا۔

اس کے گیارہ روز بعد پچیس دسمبر دو ہزار تین کوان پر دوسرا حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہوگئے تھے۔جنرل مشرف اس حملے میں بھی محفوظ رہے تھے۔

دس جون دوہزار چار کو کراچی میں کلفٹن کے علاقے میں کراچی کے کور کمانڈر لیفٹننٹ احسن سلیم حیات ایک حملے میں بال بال بچے تاہم اس حملے کے نتیجے میں دس افراد جان بحق ہوئے تھے۔

تیس جون دوہزار چار کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو ضلع اٹک میں اس وقت ایک خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ قومی اسمبلی کےضمنی انتخابات کی مہم میں مصروف تھے۔اس حملے میں وہ محفوظ رہے لیکن دیگر چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو اٹھائیس اپریل دو ہزار سات کو چارسدہ میں ایک مبینہ خود کش حملے کا نشانہ بنایاگیا۔اگرچہ اس حملے میں وہ خود معمولی طور پر زخمی ہوئے تھے لیکن حملے کے نتیجے میں ریلی میں شامل تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آفتاب شیر پاؤ کو جمعہ اکیس دسمبر دو ہزار سات کو چارسدہ میں دوبارہ ’ٹارگٹ‘ بنایا گیا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے البتہ پچاس سے زیادہ افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے۔

کراچی کے کور کمانڈر لیفٹننٹ احسن سلیم حیات ایک حملے میں بال بال بچے

اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس کو مبینہ خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔جبکہ نو نومبر کو پشاور میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام کی رہائش گاہ پر مبینہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اگرچہ بظاہر ان حملوں کا نشانہ اعلیٰ حکومتی اہلکار تھے مگر ان کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر بے گناہ شہری تھے جنکی مجموعی تعداد دو سو چون سے زیادہ ہے۔

فوجفوج پر خودکش حملے
آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو حملہ آوروں کا نشانہ
دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
بڑھتےخودکش حملے
پاکستان میں افغانستان سے زیادہ اموات ہوئیں
فائل فوٹوحملوں کا سال
36 خودکش حملوں میں 315 سے زائد ہلاک
مشرفجوابی خودکش حملے
’مشرف کے لیے حکمت عملی پر نظرثانی کا وقت‘
سی ڈیطالبان ’پراپیگنڈا‘
’خودکش حملہ آور بنو، جنت میں جاؤ‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد