عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، ژوب، بلوچستان |  |
 | | | پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں دو حملے ہوئے |
پاکستان میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صدرجنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو سمیت چھ اعلیٰ حکومتی، فوجی اور سیاسی شخصیات کو ’ ٹارگٹ‘ بنایاگیا ہے تاہم مبینہ دہشت گردوں کو اپنے’اہداف‘ کو نشانہ بنانے میں ناکامی ہوئی ہے۔ ان حملوں میں مبینہ ٹارگٹ کی بجائے دو سو چون سے زیادہ بےگناہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف وہ پہلی اعلیٰ حکومتی شخصیت تھے جن پر چودہ دسمبر دو ہزار تین کو راولپنڈی میں جھنڈا چیچی پل پر ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے حملہ کیا گیا تاہم اس حملے کو ناکام بنایا گیا تھا۔ اس کے گیارہ روز بعد پچیس دسمبر دو ہزار تین کوان پر دوسرا حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہوگئے تھے۔جنرل مشرف اس حملے میں بھی محفوظ رہے تھے۔ دس جون دوہزار چار کو کراچی میں کلفٹن کے علاقے میں کراچی کے کور کمانڈر لیفٹننٹ احسن سلیم حیات ایک حملے میں بال بال بچے تاہم اس حملے کے نتیجے میں دس افراد جان بحق ہوئے تھے۔ تیس جون دوہزار چار کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو ضلع اٹک میں اس وقت ایک خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ قومی اسمبلی کےضمنی انتخابات کی مہم میں مصروف تھے۔اس حملے میں وہ محفوظ رہے لیکن دیگر چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو اٹھائیس اپریل دو ہزار سات کو چارسدہ میں ایک مبینہ خود کش حملے کا نشانہ بنایاگیا۔اگرچہ اس حملے میں وہ خود معمولی طور پر زخمی ہوئے تھے لیکن حملے کے نتیجے میں ریلی میں شامل تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ آفتاب شیر پاؤ کو جمعہ اکیس دسمبر دو ہزار سات کو چارسدہ میں دوبارہ ’ٹارگٹ‘ بنایا گیا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے البتہ پچاس سے زیادہ افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے۔
 | | | کراچی کے کور کمانڈر لیفٹننٹ احسن سلیم حیات ایک حملے میں بال بال بچے |
اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس کو مبینہ خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔جبکہ نو نومبر کو پشاور میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام کی رہائش گاہ پر مبینہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اگرچہ بظاہر ان حملوں کا نشانہ اعلیٰ حکومتی اہلکار تھے مگر ان کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر بے گناہ شہری تھے جنکی مجموعی تعداد دو سو چون سے زیادہ ہے۔
|