شیرپاؤ پر حملہ، درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیپر پاؤ کے آبائی گاؤں شیرپاؤ میں جمعہ کی صبح عیدالاضحیٰ کی نماز کے دوران ہونے والے خوکش بم دھماکے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ ایک نامعلوم خودکش بمبار نے اپنے آپ کو بارود کے دھماکے سے اس وقت اڑا دیا جب آفتاب احمد خان شیرپاؤ، ان کے صاحبزادے مصطفیٰ شیرپاؤ اور گاؤں کے سینکڑوں افراد علاقے کی جامع مسجد میں نماز عید ادا کر رہے تھے۔ ضلع چارسدہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیروز شاہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت نے ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد صرف اڑتیس بتائی تھی۔ ضلع چارسدہ کے علاقے عمرزئی کے پولیس سٹیشن، جس کی حدود میں دہشت گردی کی یہ واردات رونما ہوئی، کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بیس افراد کی لاشیں چارسدہ کے علاقے تنگی کی ہسپتال پہنچائی گئیں، پانچ لاشیں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور نو لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ لے جائی گئیں۔ دھماکے میں سابق وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ محفوظ رہے جبکہ ان کے بیٹے مصطفیٰ شیرپاؤ کو زخم آنے کی وجہ سے پشاور ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے دھڑے کےسربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ پر گزشتہ آٹھ مہینوں میں ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے۔ پہلا حملہ بھی ان کے گاؤں میں واقع اُن کے حجرے میں ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تاہم تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سابق وزیر داخلہ کی جان کو ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر اُن کے حجرے میں عید الاضحیٰ کی نماز کی ادائیگی کے لیے انتظامات کیے گئے تھے اور گزشتہ شام سے پولیس کے اہلکار علاقے میں تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم جمعہ کی صبح انہوں نے اپنے حجرے کے بجائے علاقے کے عوام کے ساتھ گاؤں کی جامع مسجد میں نماز پڑھنے کو ترجیح دی۔ وہ آئندہ عام انتخابات میں ضلع چارسدہ سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے اور درجنوں لاشیں مسجد کے صحن میں پڑی دیکھی گئیں۔ ضلع چارسدہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی سہولیات کے کمی کے باعث دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو پشاور کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا۔ سہ پہر تین بجے تک پینتیس ہلاک شدگان کی جنازے شیرپاؤ گاؤں کے قبرستان پہنچا دیے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین افراد کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بتایا جاتا ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اس خودکش حملے کی مذمت کی ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ کوئی مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر اس طرح کی کارروائی کرنے کی نہیں سوچ سکتا ہے۔ سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق صدرِ پاکستان نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔ |
اسی بارے میں شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان ہلاکتیں 50 تک ہو سکتی ہیں: شیرپاؤ07 April, 2007 | پاکستان ’حملہ آور شیرپاؤ کی جانب بڑھ رہا تھا‘28 April, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان شیرپاؤ کے خلاف نیب کی درخواست15 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||