BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہوگا‘

بھکر دھماکہ کے زخمی
بھکر ہسپتال میں اب بھی پینسٹھ زخمی داخل ہیں
صوبہ پنجاب کے وزیراعلٰی میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کا صفایا کیے بغیر پاکستانی قوم اپنے آپ کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔

ضلع بھکر میں پیر کو ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے وزیراعلٰی نے کہا کہ’اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا‘۔

بھکر میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے قومی اسمبلی کے رکن رشید اکبر نوانی کے ڈیرے پر ہونے والے خودکش حملے میں حملہ آور سمیت کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور رشید نوانی سمیت ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

بھکر کے ضلعی ہپستال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر احسان الحق نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سترہ شہری اور ایک حملہ آور شامل ہے۔ یاد رہے کہ پیر کو ڈسٹرکٹ ہسپتال بھکر کے سرجری ڈپارٹمنٹ کے انچارج ڈاکٹر سرجن عتیق الرحمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہلاک شدگان کی تعداد بیس بتائی تھی۔

ڈاکٹر احسان الحق کے مطابق ہسپتال میں اب بھی پینسٹھ زخمی داخل ہیں جن کی حالت تسلی بخش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو افراد کی حالت تشویشناک تھی جنہیں فیصل آباد منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ زخمی مسلم لیگی ایم این اے رشید اکبر نوانی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔

زخمیوں کی عیادت کے بعد شہباز شریف نے کہا کہ خودکش حملے ایک ایسا چیلنج ہیں جس سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ تیاریاں کر رہے ہیں اور اگر اس میں جوکمی رہ گئی تھی اسے دور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے بم دھماکے کے ہلاک شدگان کے ورثاء میں پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں میں دو دو لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے۔

بھکر دھماکے میں ہلاک ہونے والے متعدد افراد کو منگل کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی نمازِ جنازہ تحصیل دریا خان کے علاقے ادا کی گئی جبکہ باقی افراد کی تدفین بھکر سٹی اور گرد و نواح کے علاقوں میں ہوئی ہے۔ دھماکے کے سوگ میں بھکر شہر بھر میں منگل کو تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند رہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سترہ شہری اور ایک حملہ آور شامل ہے

اطلاعات کے مطابق دھماکے کی تفتیش میں مصروف پولیس حکام نے کالعدم مذہبی تنظیموں کے چند کارکنوں کو شامل تفتیش کر لیا ہے جبکہ خودکش حملہ آور کا سر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ پولیس بم کے اجزاء کے کیمیکل تجزیہ کی حتمی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے جس سے اس بات کا تعین میں آسانی ہوگی کہ اس طرح کا بارود ماضی میں کون کون سی تنظیمیں یا گروہ استعمال کرتے رہے ہیں۔

پولیس اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ یہ حملہ کہیں فرقہ وارانہ کشیدگی کا نتیجہ تو نہیں۔ بھکر کا نوانی خاندان شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا ہے تاہم بھکر میں ایک اخبار کے مقامی نامہ نگار سلیم اعوان کا کہنا ہے کہ نوانی خاندان فرقہ وارانہ معاملات سے دور ہی رہتا ہے۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر میں پیر کو ہونے والے خودکش حملے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اس کی پر زور مذمت کی ہے۔تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک ترجمان مفتی رحمان نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو کے ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ اس حملے کو تحریک طالبان سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ انہیں بدنام کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد